کولمبو: مغوی تامل صحافی رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منگل کے روز اغو کیے جانے والے تامل صحافی کو رہا کر دیا گیا ہے۔ نداراجا گروپران جو ایف ایم ریڈیو سریان کے لیے کام کرتے تھے کو منگل کے روز اغو کر لیا تھا اور ان کو بدھ کی صبح رہا کردیا گیا ہے۔ نداراجا گروپران نے اپنی رہائی کے ریڈیو پر بتایا کہ ان کے اغوا کار سنہالی زبان بول رہے تھے۔ نداراجا نے کہا کہ ان کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا لیکن اغوا کارروں کے پاس کچھ سوالات تھے جن کا وہ جواب مانگ رہے تھے۔ نداراجا کومنگل کے روز گھر سے دفتر جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا اور پھر پولیس کو ان کی گاڑی ملی تھی جس کا انجن سٹارٹ تھا اور ان کا موبائل فون گاڑی میں ہی پڑا تھا۔ نداراجا کے دوستوں کا کہنا ہے کہ ان کو کچھ عرصے کچھ گروہوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی وجہ سے وہ پریشان تھے۔ سریام ایف ایم ریڈیو سٹیشن تامل ٹائیگڑز اور سری لنکا کی حکومت کے درمیان جاری لڑائی کے دوران ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے خصوصی رپورٹیں نشر کرتا رہا ہے۔ سری لنکا میں بی بی سی کی نمائندہ دومیتھا لوتھرا کا کہنا ہے کہ سریام ریڈیو کے بارے میں عام تاثر ہے کہ وہ تامل سنہالہ جھگڑے میں غیر جانبدار ہے۔ صحافیوں کی تنظیم رپورٹر سانز فرنٹیر نے کہا ہے ندا راجا کا اغوا اس بات کی دلیل ہے کہ سری لنکا میں صحافتی آزادی کو کتنے خطرات لاحق ہیں۔ صحافیوں کی تنظیم نے کہا کہ سری لنکا میں عام طور اور اس کے شمالی علاقوں میں خاص طور پر قتل، گرفتاریاں، دھمکیاں اور بم دھماکے روز کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ سری لنکا کے صحافیوں نے دارالحکومت کولمبو میں صحافی نے نداراجا کے اغوا کے بارے میں احتجاج کیا ہے۔ سری لنکا میں پہلے بھی کئی بار صحافیوں، اخباروں کے دفاتر اور اخبار فروشوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور موجودہ سال میں اخباری صنعت سے منسلک پانچ لوگ ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ | اسی بارے میں وقت سے پہلے موت؟18 August, 2006 | پاکستان صحافیوں کا ملک بھر میں یوم احتجاج 22 August, 2006 | پاکستان غزہ میں مغوی غیر ملکی صحافی رہا27 August, 2006 | آس پاس عمرکوٹ کے صحافی پر تشدد 29 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||