جوابی کارروائی، تامل باغی نشانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں گزشتہ روز کولمبو کے فوجی ہیڈ کوارٹر پر خود کش حملے میں آٹھ افراد کی ہلاکت اور فوج کے سربراہ لفٹیننٹ جنرل سارتھ فونیسکا کے شدید زخمی ہونے کے بعد فوج نے ملک کے مشرق میں تامل باغیوں کے ٹھکانوں پر تازہ حملے کیئے ہیں۔ اس سے قبل سری لنکا کے صدر مہندا راجہ پاکسے نے کہا ہے کہ حکومت جنگ نہیں چاہتی لیکن ایسے خود کش حملوں سے ہار بھی نہیں مانے گی۔ کولمبو میں صحافی دلیپ گانگولی نے بی بی سی کو بتایا کہ کولمبو سے جیٹ طیارے ترنکوملی کے علاقے میں گئے جہاں انہوں نے تامل باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی۔ بمباری بالخصوص ان علاقوں میں ہوئی ہے جو ساحل کے ساتھ واقع ہیں۔ ایک فوجی ترجمان نے بتایا ہے کہ فوج کی طرف سے جوابی کارروائی بحریہ کی گشتی کشتیوں پر باغیوں کے حملے کے بعد کی گئی ہے۔ دلیپ گانگولی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ تامل باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری سے کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تامل باغیوں کی طرف سے جوابی کارروائی خارج از امکان نہیں ہے اور یہ ناممکن نہیں کہ وہ کولمبو میں یا کسی اور مقام پر خود کش حملے کے بارے میں غور کر رہے ہوں۔
ایک سوال کے جواب میں گانگولی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ کہنا شاید قبل از وقت ہوگا کہ حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا جو سمجھوتہ تھا وہ ختم ہوگیا ہے۔ تاہم بظاہر ایسے لگتا ہے کہ معاملات پھر خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سری لنکا میں تشدد کی لہر میں پھر تیزی آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے تامل باغیوں نے امن مذاکرات سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ جولائی دو ہزار چار کے بعد سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منگل کے روز ہونے والا حملہ پہلا خود کش حملہ تھا۔ دو ہزار دو میں امن معاہدے کے بعد یہ تام باغیوں کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ابھی تک باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ دلیپ گانگولی کا کہنا ہے کہ تامل باغی عام طور پر ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے اور انہوں نے صرف ایک آدھ بار ہی ایسا اعتراف کیا ہے۔ گانگولی نے بتایا کہ تامل باغیوں کی طرف سے کچھ عرصہ قبل انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے بم دھماکے میں مارے جانے کے بارے میں صرف اتنا کہا گیا تھا کہ یہ ایک غلطی تھی۔ گزشتہ روز سری لنکا میں فوجی ذرائع نے فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے کے لیے ایل ٹی ٹی ای کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ فوج کے مطابق اس حملے میں کم سے کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ فوجی ترجمان نے بتایا کہ یہ دھماکہ ایک خودکش حملہ آور نے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ آور ایک خاتون تھیں جنہوں نے فوجی ہسپتال کے پاس فوج کے سربراہ کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور یہ ظاہر کر رہی تھیں جیسے وہ حاملہ ہوں۔ کولمبو جنرل ہسپتال کے ذرائع کے مطابق فوجی سربراہ اور دس اور زحمی افراد کو ہسپتال لایا گیا ہے۔ فوجی سربراہ کے پیٹ میں شدید زخم آئے ہیں۔ | اسی بارے میں تامل باغیوں کے موقف میں سختی17 April, 2006 | آس پاس سری لنکا بس دھماکہ، بارہ ہلاک 11 April, 2006 | آس پاس باغیوں کے ساتھ مذاکرات شروع22 February, 2006 | آس پاس سری لنکا: خوف کے بڑھتے سائے21 January, 2006 | آس پاس تامل باغیوں کا ٹی وی چینل01 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||