BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 April, 2006, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تامل باغیوں کے موقف میں سختی
باغی
فوج پر ہونے والے حملوں کا الزام باغیوں پر لگایاجاتا ہے
سری لنکا کے تامل باغیوں نے باقاعدہ اعلان کیا ہے کہ وہ تنظیم پر عائد پابندیوں کے باعث جینیوا میں ہونے والے امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔دریں اثناء سری لنکا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی قصبے ویوونیا میں باغیوں نے ایک حملے میں چار فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے۔

تامل باغیوں کا کہنا ہے کہ ان کے راستے کی ’رکاوٹیں‘ دور کی جائیں تاکہ وہ پہلے اپنا ایک نہایت ضروری اندرونی اجلاس منعقد کرسکیں۔

یہ مذاکرات پہلے ہی کچھ عرصے کے لیئے مؤخر ہو چکے ہیں اور اب انہیں پروگرام کے مطابق 24 یا 25 اپریل سے شروع ہونا تھا۔

نوروے کے مذاکرات کار کو تامل باغیوں نے ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’جب تک جنیوا مذاکرات میں شامل ہونے کے لیئے ہمارے سامنے کھڑی کی گئی رکاوٹیں نہیں دور کی جاتیں اور جب تک ہمارے لیئے ساز گار ماحول پیدا نہیں کیا جاتا، ہمارے نمائندے امن مذاکرات میں شرکت نہیں کرسکیں گے‘۔

تامل باغیوں کے چند کمانڈروں کو ملک کے جنوب میں سفر کرنا تھا تاکہ سنیچر کو وہ تنظیمی اجلاس منعقد کرسکیں۔

حکومت اور باغیوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ طے پایا تھا کہ تامل رہنماؤں کو ایک بحری کشتی کے ذریعے ان کی منزل تک پہنچایا جائے گا جہاں ان کے ہمراہ جنگ بندی کا معائنہ کرنے والے بین الاقوامی معائنہ کار بھی موجود ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے بحریہ کے ایک جہاز کو بھی تامل باغیوں پر نظر رکھنے کے لیئے تعینات کردیا گیا تاہم باغیوں نے آخری لمحے پر اس سے انکار کردیا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ بحریہ کے جہاز کی موجودگی ان کے لیئے قابل قبول نہیں ہے۔

حالیہ چند دنوں کے دوران پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے

اس سے قبل فروری میں سری لنکا کے حکام اور تامل علیحدگی پسندوں کے درمیان تین سال کے وقفے کے بعد جنیوا میں براہ راست مذاکرات ہوئے تھے۔

ان مذاکرات کا اہتمام ناروے کے سفیر ایرک سولیم نے کیا تھا۔ سری لنکا میں سن دوہزار دو میں ہونے والے جنگی بندی کے معاہدے کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے لیکن سن دوہزار تین میں یہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

گزشہ سال نومبر میں مہندا راج پکشے کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تشدد کے واقعات میں ایک سو بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں اسی کے قریب فوجی شامل تھے۔

فوج پر ہونے والے حملوں کا الزام باغیوں پر لگایاجاتا ہے تاہم وہ ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

تامل باغیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دسمبر کے بعد سے اب تک فوج چالیس سے زیادہ تاملوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ کچھ لوگ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار تامل باغیوں کوبھی قرار دیتے ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں سے چلنے والی اس مسلح کشمکش میں ساٹھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ تامل باغی ملک کے شمال اور مشرق میں تامل اقلیت کے لیئے خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد