باغیوں کے ساتھ مذاکرات شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے حکام اور تامل علیحدگی پسندوں کے درمیان تین سال کے وقفے کے بعد سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں براہ راست مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ ان دو روزہ مذاکرات کا مقصد فریقین کے درمیان چار سال پرانے صلح کے معاہدے کو مستحکم کرنا ہے۔سری لنکا میں حالیہ دنوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات سے ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی چھڑ جانے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ان مذاکرات کا اہتمام ناروے کے سفیر ایرک سولیم نے کیا ہے۔ سری لنکا میں سن دوہزار دو میں ہونے والے جنگی بندی کے معاہدے کے بعد فریقین کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے لیکن سن دوہزار تین میں یہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ سری لنکا کے ایک اعلی سرکاری اہلکار اجیت نیوارد چبرال نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو مذاکرات میں جانے سے پہلے بتایا کہ وہ ان مذاکرات میں کھلے ذہن سے شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک معنی خیز جنگی بندی کا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں جس سے ہلاکتوں اور تشدد کا سلسلہ فوری طور پر بند ہوجائے۔ گزشہ سال نومبر میں مہندا راج پکشے کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد تشدد کے واقعات میں ایک سو بیس افراد جن میں اسی کے قریب فوجی شامل تھے ہلاک ہو گئے تھے۔ فوج پر ہونے والے حملوں کا الزام باغیوں پر لگایاجاتا ہے تاہم وہ ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔ تامل ٹائیگرز کے حمایوں کا کہنا ہے کہ دسمبر کے بعد سے اب تک فوج چالیس سے زیادہ تاملوں کو ہلاک کر چکی ہے۔ کچھ لوگ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار تامل باغیوں کوبھی قرار دیتے ہیں۔ تامل علیحدگی پسندوں کی طرف سے کسی ایشیائی ملک میں ان مذاکرات میں شامل ہونے سے انکار کے بعد یہ مذاکرات جنیوا میں کرائے جارہے ہیں۔ گزشتہ دو ہائیوں سے چلنے والی اس مسلح کشمکش میں ساٹھ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ تامل ٹائیگر ملک کے شمال اور مشرق میں تامل اقلیت کے لیے خودمختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں سری لنکا، امن کیلیے کوششیں24 December, 2005 | آس پاس سری لنکا: تامل نواز رہنما ہلاک25 December, 2005 | آس پاس سری لنکا: فوجیوں پر باغیوں کاحملہ27 December, 2005 | آس پاس سری لنکا: خوف کے بڑھتے سائے21 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||