BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 September, 2006, 18:48 GMT 23:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شام کو امریکہ کا شکریہ
دمشق
ردا کے علاقے میں سفارت خانے اور اعلیٰ سرکاری حکام کی رہائش گاہیں ہیں
امریکہ نے دمشق میں امریکی سفارتخانے پر حملے کو ناکام بنانے کے لیئے شام کی حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ شام نے اسلامی انتہا پسندوں پر اس حملے کا الزام لگایا ہے لیکن کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

شام نے میں حکام کے مطابق دو کاروں میں سوار چار حملہ آور نعرے لگاتے ہوئے امریکی سفارتخانے کی طرف بڑھ رہے تھے، انہوں نے گاڑیوں سے فائرنگ کی اور دستی بم بھی پھینکے۔

امریکہ وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے شام کی سکیورٹی فورسز کی کاکردگی کو سراہا ہے۔امریکہ نے شام کی طرف سے سفارتخانے کے عملے کی حفاظت پر شکریہ ادا کیا۔ اس وقت سفارتخانے میں کوئی امریکہ سفیر نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان بہت محدود رابطہ ہے۔

شام کے حکام کے مطابق چار میں سے تین مسلح حملہ آووروں کو موقع پر گولی مار کر ہلاک کردیا گیا جبکہ چوتھے حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق حملہ آووروں نے کار بم کا دھماکہ کرنے کی کوشش بھی کی تاہم وہ اس میں ناکام رہے۔

شام کے حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران شام کے سکیورٹی اہلکاروں اور مسلم شدت پسندوں کے درمیان کئی مسلح جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

دمشق میں گزشتہ چند سالوں سے دہشت گردی کی کئی وارداتیں ہوچکی ہیں۔

شام کے وزیر داخلہ بسام عبدل المجید نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ایک کارروائی میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے حالات پر قابو پالیا ہے۔

ٹی وی پر دکھائی گئی فلم میں فٹ پاتھ پر خون کے علاوہ پائپ اور گیس کے کنستر دکھائے گئے جس سے لگتا تھا کہ یہ کوئی گھریلو ساخت کا بم تھا۔

دمشق میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب شام اور امریکہ کے تعلقات لبنان پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے کشیدگی کا شکار ہیں۔

امریکہ شام پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ وہ عراق میں دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے اور حزب اللہ کو ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیئے مناسب اقدام نہیں کر رہا۔

اس سال جون میں سکیورٹی فورسز نے سرکاری ٹیلی ویژن کے قریب دہشت گردوں کی ایک کارروائی ناکام بنا دی تھی جس میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اُس سے قبل اپریل دو ہزار چار میں دمشق کے سفارتی علاقے میں دہشت گردوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد