BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 June, 2006, 06:32 GMT 11:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریفرنڈم پر اتفاقِ رائے نہ ہو سکا
ہنیہ
اس اقدام سے فلسطین کی قومی وحدت کو نقصان پہنچےگا:ہنیہ
فلسطینی رہنما متنازع ریفرنڈم کے انعقاد کے معاملے پر اختلافات دور کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ سے بھی ہفتے کو رات گئے ملاقات کی۔

فلسطین انتظامیہ کےصدر نے فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اٹھارہ نکاتی منصوبے پر چھبیس جولائی کو ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے جس میں اسرائیل کو بالواسطہ پر تسلیم کر لیا جائے گا۔

ملاقات کے بعد محمود عباس کا کہنا تھا کہ وہ ریفرنڈم کروائیں گے جبکہ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ اس اقدام سے فلسطین کی قومی وحدت کو نقصان پہنچےگا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ’ ہم ریفرنڈم کے معاملے پر متفق نہیں ہو سکے اور ہم نے صدر کو اس کے نقصانات اور خطرات سے آگاہ کر دیا ہے‘۔

محمود عباس نے حماس حکومت کے سامنے ایک منصوبہ رکھا ہے کہ وہ یا تو یہ دو ریاستی منصوبہ قبول کر لیں ورنہ براہِ راست فلسطینی عوام سے اس کی منظوری حاصل کی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ریفرنڈم اس لیئے ضروری ہے کیونکہ فلسطینی کی سیاسی جماعتیں اسرائیل سے روابط کے معاملے پر ایک ’ڈیڈ لاک‘ پر پہنچ چکی ہیں۔

فلسطینیوں کے لیے عمل کا وقت آ چکا ہے: محمود عباس

حماس پہلے ہی اس ریفرنڈم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر چکی ہے اور سنیچر کو حماس کے ترجمان مشیر المصری نے کہا کہ یہ ریفرنڈم حماس کی انتظامیہ کو زبردستی ہٹانے کے مترادف ہے۔ اس سلسلے میں اتوار کو مزید بات چیت ہونے کی توقع ہے۔

فلسطینی مملکت کا یہ اٹھارہ نکاتی منصوبہ اسرائیلی جیلوں میں قید سینیئر فلسطینی قیادت نے تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے کی سرحدوں کے اندر فلسطینی ریاست کا قیام اور فلسطینی مہاجرین کو اسرائیل میں اپنے گھروں کو واپسی کے تحفظ کی بات بھی کی گئی ہے۔ منصوبے میں دو ریاستوں کی بات کی گئی ہے اور اس کی منظوری کی صورت میں فلسطینی انتظامیہ بالواسطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لےگی۔ اس منصوبے میں اسرائیل پر اس کی سرحدوں کے اندر حملوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد