نیٹو فوجی افغان دوست ہوں گے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں نیٹو کے کمانڈر نے کہا ہے کہ وہ غلط فہمی کے شکار افغانوں کی مدد حاصل کرنے کے لیے نئی حکمت عملی اپنائیں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا ہے کہ جولائی میں جب نیٹو فوجی امریکی فوجیوں سے جنوبی علاقوں کا چارج لیں گے تو ’عوام دوست‘ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ کابل میں گزشتہ ہفتے کے روڈ ایکسیڈنٹ کے بعد جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے تھے فوجیوں کو انسدادی کارروائیوں پر جاتے ہوئے زیادہ خطرے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس سے قبل طالبان نے اعلان کیا تھا کہ قندھار میں خود کش حملہ انہوں نے کیا تھا۔ اس حملے میں چار شہری ہلاک ہوئے تھے۔ کابل سے بی بی سی کے بلال سروری کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران جنوبی اور مشرقی افغانستان میں بہت سے لوگوں نے امریکی فوجیوں کی جارحانہ حکمتِ عملی کی شکایات کی ہے۔ یہ شکایات زیادہ تر ان فوجیوں سے ہیں جو گھر گھر تلاشیاں لیتے رہے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دروازے توڑدیتے تھے اور عورتوں کی تلاشی بھی مرد فوجی لیتے تھے۔ اس کے علاوہ بمباری کی ان کارروائیوں پر بھی بہت غصہ پایا جاتا ہے جن کے دوران بہت سے شہری ہلاک ہوتے رہے ہیں۔ جنرل رچرڈسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ ’ہم لوگوں پر توجہ دیں گے اور عوام دوست ثابت ہوں گے‘۔ | اسی بارے میں افغانستان: جھڑپ میں ’طالبان‘ ہلاک 03 June, 2006 | آس پاس افغانستان: تین سو سکول نذرآتش01 June, 2006 | آس پاس افغانستان: پولیس سربراہ ہلاک31 May, 2006 | آس پاس افغانستان: جھڑپ میں چار ہلاک 28 May, 2006 | آس پاس قندھار حملہ، قصور طالبان کا: امریکہ22 May, 2006 | آس پاس قندھار بمباری: عینی شاہدین کے بیان22 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||