قندھار حملہ، قصور طالبان کا: امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں امریکی افواج نے قندھار کے قریب طالبان کے خلاف ایک کارروائی میں درجنوں عام شہریوں کی ہلاکت کے لیے طالبان کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ طالبان نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کے درمیان پناہ لی اس لیے ان کے خلاف کارروائی میں عام لوگوں کی بڑی تعداد بھی ماری گئی۔ امریکیوں کے دعوے کے مطابق اس کارروائی میں ساٹھ طالبان اور سولہ عام شہری مارے گئے۔ گزشتہ شب امریکی کی کمان میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں ساٹھ کے قریب طالبان اور سولہ شہری ہلاک ہو گئے ہیں جس میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ پیر کو امریکی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں ’50 کے قریب طالبان‘ ہلاک ہوئے۔ قندھار کے گورنر اسد اللہ خالد نے بتایا کہ ان فضائی حملوں میں جو رات بھر جاری رہے ساٹھ طالبان اور سولہ شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں زخمیوں ہونے والے پچیس شہریوں کو قندھار کے مرکزی ہسپتال میں لایا گیا۔ تاہم کچھ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں کم سے کم ’تیس شہری‘ ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے ہیں جبکہ علاقے کے لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو تیئس کے قریب ہے۔
عینی شاہدین اور مقامی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ ایک عینی شاہد عطا محمد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بنشور خان نے بتایا کہ بمباری آدھی رات کے بعد شروع ہوئی اور صبح تک جاری رہی۔ محمد عطا اپنے آٹھ رشتہ داروں کو ہسپتال لے کر آئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں نے گاؤں میں کم سے کم چوبیس لاشیں دیکھی تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد طالبان نے ایک مقامی مدرسے میں پناہ لے لی تھی۔ حاجی اخلاف نے بتایا کہ’مدرسے پر بمباری ہوئی تو یہ لوگ بھاگ کر قریبی گھروں میں چلے گئے، اور پھر ان گھروں پر بمباری شروع ہو گئی۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ افراد طالبان کے سرگرم کارکن تھے اور یہ افغان اور اتحادی افواج کے علاوہ شہریوں پر بھی حملے کرتے رہے ہیں۔‘ یہ فضائی حملے قندھار کے اس علاقے پر کیئے گئے ہیں جہاں حال ہی میں طالبان اور افغان سکیورٹی افواج کے درمیان لڑائی میں تقریباً سو افراد مارے گئے تھے۔ ہلمند اور قندھار میں گزشتہ دو روز سے شدید جھڑپیں جاری تھیں جس میں 16 افغان فوجی ہلاک بتائے جاتے ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے میں اس علاقے میں طالبان کے دو سو کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: 16 فوجی 200 مخالف ہلاک21 May, 2006 | آس پاس افغانستان: امریکی فوجی مارا گیا20 May, 2006 | آس پاس افغانستان: سینیئر جج ہلاک03 May, 2006 | آس پاس طالبان: زابل میں مسلح جھڑپیں 16 April, 2006 | آس پاس طالبان: قندھار کے اطراف میں لڑائی15 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||