طالبان: قندھار کے اطراف میں لڑائی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں فوج اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ایک مرتبہ پھر جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔ یہ جھڑپیں جنوبی افغانستان میں 50 افراد کی ہلاکت کے ایک روز بعد شروع ہوئی ہیں۔ اس علاقے میں ایک سو سے زائد طالبان جنگجوؤں کی تلاش کے لیئے ایک بڑی کارروائی جاری ہے جو گزشتہ روز کے تنازع میں ملوث تھے۔ قندھار میں طالبان جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان لڑائی میں 41 جنگجو اور چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب طالبان نے ہرات اور قندھار کو ملانے والی سڑک بلاک کردی تھی۔ کہا جاتا ہےکہ یہ جنگجو ہلمند کے صوبے سے یہاں آئے تھے۔ یہ مسلح جھڑپ قندھار صوبے کے چار ضلعوں میں پھیل گئی جس کے بعد لڑائی کے لیئے امریکی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد لی گئی۔ اتحادی افواج نے ابھی ہلاک شدگان کی تعداد پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ہلمند میں ایک اعلٰی سرکاری افسر کی ہلاکت کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی جارہی ہے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہت عرصے کے بعد طالبان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ اس سے قبل ہونے والے پرتشدد واقعات خودکش حملوں کی شکل میں کیے جارہے تھے۔ قندھار کے گورنر اسد اللہ خالد کا کہنا ہے کہ ’اس اطلاع پر کہ طالبان سنگسر کے علاقے میں جمع ہوکر قندھار پر حملے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں، ہم نے جمعہ کو یہ آپریشن شروع کیا۔ شام کو اتحادی اورافغان افواج بھی ہماری مدد کے لیئے آگئیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے دوران نو پولیس اہلکار اور 13 طالبان زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان جھڑپوں میں اتحادی فوج کا کوئی اہلکار متاثر نہیں ہوا ہے۔ طالبان لیڈر ملا محمد عمر کا تعلق بھی سنگسر کے گاؤں سے ہے۔ جنوبی ایشیا کے لیئے انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی ثمینہ احمد کا کہنا ہے کہ ہر سال اس موسم کے دوران طالبان کی شورش میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس سال کی جھڑپوں کا تعلق ملک کے جنوبی حصے میں نیٹو افواج کی توسیع سے ہے۔ ایک اور واقعے میں پاکستانی سرحد کے نزدیک ایک بم دھماکے میں کم از کم تین پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ | اسی بارے میں افغانستان: دو بم دھماکے، 11 زخمی09 April, 2006 | آس پاس افغانستان:4 امریکی فوجی ہلاک12 March, 2006 | آس پاس افغانستان: دھماکے میں 12 افراد ہلاک07 February, 2006 | آس پاس افغانستان: خودکش حملہ، 10 ہلاک05 January, 2006 | آس پاس افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘09 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||