انڈونیشیا کا آتش فشاں، ریڈ الرٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈونیشیا کے حکام نے ممکنہ آتش فشاں کے خطرے کے باعث میراپی کی چوٹی کی ڈھلوانوں پر بسنے والے ہزاروں افراد کو علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس خطرے کو ’انتہائی سنگین‘ درجے کا خطرہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہےکہ آتش فشاں اچانک پھٹ سکتا ہے۔ تین ہزار میٹر اونچی چوٹی سے، جوکہ جاوا صوبے کی گھنی آبادی کے درمیان واقع ہے، کئی ہفتوں سے مسلسل لاوا بہہ رہا ہے۔ 1994 میں اسی چوٹی سے اٹھنے والے گیسوں کے بادل سے ساٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ میراپی آتش فشاں کی تحقیق کے ادارے کے سربراہ سباندریو نے بتایا ’آج صبح ہم نے خطرے کا لیول ریڈ کوڈ کردیا ہے۔ اور ہر رہائشی کو یہاں سے انخلاء کا حکم دیا ہے‘۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی کا کہنا ہے کہ انڈونیشیا کے حکام نے بڑے پیمانے پر انخلاء کا فیصلہ کیا ہے اور اس سے قبل کئی ہفتوں تک اس کی تیاری کی گئی ہے اور مسلسل انتباہ جاری کیئے جاتے رہے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ وہ افراد جو چوٹی کے قریب ترین رہتے تھے، انہیں پہلے ہی وہاں سے منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان میں زیادہ تر بوڑھے افراد اور چھوٹے بچے اور ان کی مائیں شامل ہیں۔ کئی افراد نے اپنی جائیداد، مکان اور مویشی چھوٹنے کے ڈر سے انخلاء نہیں کیا ہے۔
تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ انتہائی خطرے کے انتباہ کے باعث ان افراد کے پاس علاقے چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ مقامی ٹی وی لاوے کی ایک نہر بہنے کا منظر مسلسل دکھا رہے ہیں جس میں لاوہ بہہ کر چوٹی سے نیچے جارہا ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے خیال میں سب سے زیادہ خطرہ آتش فشاس سے اٹھنے والی گیسوں سے ہوسکتا ہے۔ لاوے کا بہاؤ جمعرات سے شروع ہوا تھا۔ انڈونیشیا کے نائب صدر نے جمعرات کو علاقے کا دورہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ علاقے کی 50 فیصد آبادی کو فوری طور پر دیگر علاقوں میں منتقل کیا جائے۔ انڈونیشیا کا علاقہ ایشیا پیسیفک کے ’آگ کے دائرے‘ میں آتا ہے اور اس میں 129 ’زندہ‘ آتش فشاں ہیں۔ انڈونیشیا میں سب سے خطرناک آتش فشاں 1930 میں پھٹا تھا اور اس سے 1300 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں آئس لینڈ ، آتش فشاں کی طاقت04 November, 2004 | نیٹ سائنس بحرالکاہل میں دھوئیں کا بادل03 July, 2005 | پاکستان ’الائی میں آتش فشاں نہیں ہیں‘25 October, 2005 | پاکستان نئے سمندر کے جنم کے امکانات09 December, 2005 | نیٹ سائنس ’کھوئی ہوئی دنیا‘ کی دریافت28 February, 2006 | آس پاس آتش فشاں کے مرکز تک کھدائی27 March, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||