اسرائیل: مخلوط حکومتی مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مارچ کے انتخابات میں کسی سیاسی جماعت کو واضع اکثریت حاصل نہ ہونے کے باعث اسرائیل میں سیاسی جماعتوں نے ایک مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات شروع کیے ہیں۔ ان انتخابات میں ایرئیل شیرون کی جماعت کادیما نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں سب سے زیادہ نششتیں حاصل کی ہیں اور وہی دوسری بڑی پارٹی لیبر اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں سے مذاکرات کر رہی ہے۔ قائم مقام وزیراعظم ایہود اولمرت کا کہنا ہے کہ وہ ایک وسیع تر اور مستحکم حکومت چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ وہ یہ شرط بھی لگاتے ہیں کے مخلوط حکومت میں شامل تمام جماعتوں کو ان کی اس بات سے متفق ہونا چاہیے کہ اسرائیل کی مستقل سرحدوں کا تعین کیا جائے گا چاہے فلسطین ان پر اتفاق کرے یا نہ کرے۔ اولمرت کا کہنا ہے کہ وہ 2010 تک سرحدوں کے تعین کو یقینی بنانا چاہتے ہیں جب کہ لیبر کا کہنا ہے کہ وہ یک طرفہ فیصلے کی بجائے مسئلے پر اتفاق رائے کے حق میں ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ ایک سو بیس نششتوں پر مشتمل ہے اور اس میں کادیمہ کو اٹھائیس نششتیں ہونے کی بنا پر اکثریت حاصل ہے اور اس بنا پر اسے حکومت بنانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ایوان میں دوسری بڑی لیبر پارٹی کی انیس نششتیں ہیں اور وہ گزشتہ ہفتے مخلوط حکومت میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کر چکی ہے۔ اتوار کو کادیمہ اور لیبر کے درمیان مذاکرات اڑھائی گھنٹے تک جاری رہے اور اب مزید مذاکرات منگل کو ہوں گے۔ | اسی بارے میں اسرائیلی سرحد کا تعین ہوگا:اولمرت29 March, 2006 | آس پاس اولمرت: انتخابی کامیابی کا دعویٰ 29 March, 2006 | آس پاس اسرائیل: سرحد کے لیئے امریکی مشورہ 26 March, 2006 | آس پاس اسرائیلی منصوبہ اعلان جنگ: حماس10 March, 2006 | آس پاس ’اسرائیلی سرحدوں کا تعین ضروری ہے‘24 January, 2006 | آس پاس شیرون کے بعد کون؟08 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||