انتشار پرہونے والا اجلاس ملتوی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے وزیراعظم ابراہیم جعفری نے ملک کے سنیئر رہنماؤں کے ساتھ ہونے والا ایک اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔ بظاہر سیاسی رہنماؤں کی انہیں حکومت سے باہر کرنے کی مہم پر احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے اس اجلاس کو ملتوی کیا ہے۔ ابراہیم جعفری نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے ایک قومی اتحادی حکومت کی تشکیل کی اپیل کی ہے۔ کرد اور سنی رہنماء ابراہیم جعفری سے ناخوش نظر آتے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ کسی ایسی قومی اتحادی حکومت میں شامل نہیں ہوں گے جس کے سربراہ جعفری ہوں۔ حالیہ بحران نئی حکومت کی تشکیل کی کوشش پر ایک تازہ ضرب ہے۔ اس وقت عراق کو ملکی تاریخ کے بد ترین تشدد کے دور کا سامنا ہے اور صرف جمعرات کو ایک واقعے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تکریت کے شمالی شہر میں واقع ایک چیک پوسٹ کے قریب حملے میں عراقی سکیورٹی کونسل کے نو اراکین ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس وقت عراق کے سیاسی رہنماؤں پر نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے عالمی دنیا کا شدید دباؤ ہے جو جزوی طور پر اس حالیہ تشدد کے سلسلے کو نئی حکومت کی تشکیل میں ناکامی سے جوڑ رہے ہیں۔ ابراہیم جعفری نے ملکی سیاسی رہنماؤں کا اجلاس اس لیے طلب کیا تھا تاکہ نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں پایا جانے والا انتشار بات چیت سے دور کیا جائے اور اس کے ساتھ ملک میں جاری فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جا سکے۔ لیکن حکومت نے بغیر کوئی وجہ بتائے اجلاس کو ملتوی کر دیا ہے۔ کرد اتحادی جماعت کے ایک رہنما نے حکومت کے اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا ملتوی کیا جانا قابل افسوس ہے کیونکہ موجودہ صورت حال میں اس قسم کااجلاس ضروری ہے۔ ابراہیم جعفری کی حکومت کی نامناسب کارکردگی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ سیاسی رہنماؤں کو حکومت کی ایک اہم وزارت دینے پر بھی دیگر سیاسی جماعتوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود گزشتہ ماہ یونائیٹڈ عراقی الائنس نے ابراہیم جعفری کووزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا۔ اس اتحاد نے دسمبر کے پارلیمان کےانتخابات میں دو سو پچھتر میں سے ایک سو اٹھائیس نشستیں حاصل کیں تھیں۔ | اسی بارے میں عراق میں تازہ حملے، 23 ہلاک20 February, 2006 | آس پاس عراق میں تشدد کی لہر، سو ہلاک23 February, 2006 | آس پاس عراق: 130 ہلاک، کرفیو میں توسیع23 February, 2006 | آس پاس عراق میں کرفیو کے باوجود 36 ہلاک25 February, 2006 | آس پاس عراق: مفاہمتی مذاکرات، 16ہلاک26 February, 2006 | آس پاس عراق:روضےپرحملہ، امن کوشش جاری26 February, 2006 | آس پاس عراق میں امن کے لیے مذاکرات26 February, 2006 | آس پاس فیصلہ خود عراقیوں کے ہاتھ ہے: بش28 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||