امریکی حکومت معاوضے پر رضامند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت پہلی بار اس بات پر رضامند ہوئی ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملے کے سلسلے میں کسی کو بلاوجہ گرفتار کرنے پر اسے ہرجانہ دیا جائے۔ ایک مصری شہری اِیھاب المغربی کے دائر کردہ مقدمے کا تصفیہ کرنے کے لیئے امریکہ نے انہیں تین لاکھ ڈالر معاوضہ دینے کی پیش کش کی ہے۔ اس معاوضے پر رضامندی کے کاغزات بروکلِن کی ایک عدالت میں پیر کے روز دائر کیے گئے۔ ان کو اب ایک وفاقی جج کو منطور کرنا ہوگا۔ ایھاب المغربی دس سال سے امریکہ میں مقیم تھے اور گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد ان کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ایک سال کے بعد ان کو الزامات سے بری کرکے ملک بدر کردیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس ایک سال میں ان کے ساتھ زیادتیاں کی گئیں لیکن امریکی حکومت نے اس کی تردید کی ہے۔ امریکی حکومت نے کسی طرح کی جواب دہی یا سرکاری افسروں کی غلطی کو بھی قبول نہیں کیا ہے۔ یہ مقدمہ امریکی حکومت کے خلاف ایھاب المغربی اور ایک پاکستانی شہری جاوید اقبال نے اگست سنہ دو ہزار چار میں درج کیا تھا۔ جاوید اقبال یہ مقدمہ اب تک لڑ رہے ہیں۔ مقمدے میں امریکہ کے سابق اٹرنی جنرل جان ایشکرافٹ اور دیگر حکومتی اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے امریکہ میں رہنے والے مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے کی باقاعدہ سازش کی تھی۔ پچھلے سال ایک وفاقی جج نے حکم دیا تھا کہ جان ایشکرافٹ اس مقمدمے میں پیش ہوں اور سوالات کا جواب دیں لیکن حکومت نے اس فیصلے کے خلاف یہ کہہ کر اپیل کی تھی کہ حکوت کے اعلی اہلکاروں کو قومی سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی تحفظ درکار ہے اور انہیں ایسی کارروائی میں مستثنیٰ ہونا چاہیے۔ امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد تقریباً ستر مسلمان مردوں کو بے دہشت گرد تنظیموں سے روابط کے بنیاد الزامات کی بناء پر حراست میں لیا گیا۔ |
اسی بارے میں امریکی شہری پر دہشتگردی کا الزام22 November, 2005 | آس پاس گیارہ ستمبر پر آزاد کمیشن کی رپورٹ22 July, 2004 | صفحۂ اول تیرے گھر کے سامنے۔۔۔26 July, 2004 | فن فنکار سعودی حکومت کے خلاف دعویٰ11 September, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||