امریکی شہری پر دہشتگردی کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی شہری پر جہاد اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا ہے۔ انہیں گزشتہ تین سال بغیر کسی الزام کے جیل میں رکھا گیا۔ 35 سالہ جوز پاڈیلا کو 2002 میں شکاگو سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر شبہ ہے کہ وہ ایک ’ریڈیو ایکٹِو بم‘ بنانے کی منصوبہ بندی میں ملوث رہے ہیں۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں اس چیز کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے، بلکہ ان پر چار دیگر لوگوں سمیت بیرونِ ملک امریکی شہریوں کے اغوا اور قتل کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حکومت اس عوامی مطالبے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے جس میں جوز کا مقدمہ سول عدالت میں چلائے جانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان پر لگائے گیے حالیہ الزامات اس عدالتی تنازعے سے بچنے کے لیے ہیں جس میں سپریم کورٹ نے ملزم کی مقدمہ کے بغیر گرفتاری کے عرصہ سے متعلق حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ ایک ماتحت عدالت نے حکومت کو اجازت دی تھی کہ جوز کو غیر معینہ مدت کے لیے تحویل میں رکھے، لیکن ان کے وکلا اس فیصلے کے خلاف اپیل کا فیصلہ کر چکے تھے۔ جوز پاڈیلا کو فوج کی تحویل میں رکھا گیا، اور وہ ان دو امریکی شہریوں میں سے ہیں جن کو دشمن قیدیوں کے ضمرے میں رکھا گیا ہے۔ امریکی اٹارنی جنرل البرٹو گونزیلز نے بتایا کہ جوز پر لگائے گئے الزامات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ دہشت گردوں کی تربیت کے لیے بیرونِ ملک گئے۔ اگر عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تو انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس الزام میں شامل دوسرے لوگ آدم ہیسن، محمد یوسف، کفاہ اور قاسم داہر ہیں۔ اٹارنی جنرل نے الزامات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا ’ یہ تمام ملزمان اس پر تشدد گروپ کا حصہ تھے جو امریکہ اور کینیڈا میں کام کر رہا تھا‘۔ ان میں سے تین پر پہلے الزام لگایا جا چکا تھا، پاڈیلا اور داہر کو اب اس میں شامل کیا گیا ہے۔ پاڈیلا کے وکلا نے صدر بش کے پاڈیلا کو غیر معینہ مدت کے لیے دشمن قیدی کے طور پر رکھنے کے اختیار کو چیلنج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ایسے قیدی کو وکلا اور عدالت سے دور رکھ کر اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔ منگل کے روز لگائے گئے ان الزامات کے حوالے سے پاڈیلا کو اب فوجی قید خانے سے سول جیل میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں چار سو قیدیوں کی رہائی کی منظوری 29 May, 2005 | آس پاس افغان قیدیوں کی بتدریج حوالگی05 August, 2005 | آس پاس عراق: بدسلوکی کے تازہ واقعات 16 August, 2005 | آس پاس ابو غریب جیل سے 500 قیدی رہا01 October, 2005 | آس پاس تشدد ہوا پر اتنا نہیں: عراقی وزیر17 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||