’جنگ جاری رکھیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے کہا ہے کہ تہذیب اور اور دہشت گردی کی جنگ میں کوئی لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ امریکہ کی عراق کے خلاف جنگ کے ایک برس پورے ہونے کے موقع پر تقریر کرتے ہوۓ صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس نسل کے لئے ناگزیر قرار دیا۔ ’اس ماہ سپین کے شہر میڈرڈ میں ہونے والے دھماکے یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ مہذب دنیا حالتِ جنگ میں ہے‘۔ ’دہشت گردوں کے نام امریکہ کا پیغام یہ ہے کہ وہ ایک روز اپنے انجام کو ضرور پہنچیں گے۔‘ صدر بش وہائٹ ہاؤس میں سفارتکاروں اور دیگر افراد سے خطاب کر رہے تھے۔ نئ سپین حکومت نے عراق میں سپین کے اب تک کے فوجی کردار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ نامہ نگار کے مطابق اس سے امریکہ کی عراق پالیسی کو نئے خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ دریں اثناء عراق میں امریکی منتظم پال بریمر نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں تیس جون کے انتقالِ اقتدار کے منصوبے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ پال بریمر کے مطابق دہشت گردوں کی کارروائیاں نہ صرف جاری رہیں گی بلکہ اس میں مز ید شدت آئے گی۔ صدر بش نے کہا صدر بش کے مطابق دہشت گردوں کے سامنے کمزور پڑنے کا مطلب مزید دہشت گردی کو ہوا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس موذی خطرے کا مقابلہ کریں گے اور مکمل طور پر قلع قمع کر دیں گے۔ انہوں نے افغانستان میں طالبان حکومت کی تبدیلی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بہت بڑی فتح قرار دیا۔ انہوں نے افغانستان میں لڑکے اور لڑکیوں کی سکولوں میں واپسی اور تعلیم حاصل کرنے کو خوش آئند قرار دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||