| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’عراق پر حملے کا دفاع،
امریکی صدر جارج بش نے لندن میں امریکی خارجہ پالیسی پر ایک تقریر کے دوران عراق پر امریکی حملے کا دفاع کیا ہے اور کہا کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ عراق صدام حسین کی حکومت میں بہتر تھا، بالکل اسی طرح جیسے کسی کو یہ شبہ نہیں ہے کہ طالبان کے خاتمے کے بعد افغانستان ایک زیادہ انصاف پسند ملک ہے۔ صدر بش نے ایران اور شمالی کوریا کے ساتھ جوہری معاملوں پر کشیدگی کا ذکر کیا اور کہا کہ جوہری توانائی کے بین الاقوامی نگراں ادارے آئی اے ای اے کو یقینی بنانا ہوگا کہ ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کو پورا کرے۔ انہوں نے کہا کہ عراق جنگ کے بعد بغداد میں اب لوگوں کو اسی طرح آزادئ اظہار کا حق حاصل ہے جس طرح امریکہ یا برطانیہ میں ہے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ عراق میں اب بھی تشدد جاری ہے اور یہ کہ امریکہ اور برطانیہ دونوں کو نقصانات ہوئے ہیں۔ لندن کے بینکیٹنگ ہاؤس میں انہوں نے لوگوں سے کہا کہ کبھی کبھی ’اقدار کے تحفظ‘ کے لئے جنگ واحد راستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے گیارہ ستمبر کے حملے کے حوالے سے کہا کہ گو لوگ اسے فراموش کر دینا چاہتے ہیں، لیکن یہ امید کہ خطرہ ٹل گیا ہے جھوٹی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالی، جکارتہ، کاسابلانکا، بمبئی، استنبول اور مشرق وسطیٰ میں حملے اس عالمی مہم کا حصہ تھے جس کا مقصد حملہ آوروں کے مخالفین کی حصلہ شکنی کرنا ہے۔ صدر بش نے کہا کہ عالمی دہشتگردی کا جواب عالمی سطح پر دیا جانا چاہیئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||