امریکہ میں گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں کے تین برس بعد آج دنیا بھر کے ممالک کے لیے اہم ترین مسئلہ اندرونی سلامتی اور دہشت گردی سے بچاؤ ہے۔ پچھلے ہفتے روس کے ایک سکول پر اغواء کاروں کے قبضے اور آپریشن کے بعد روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ یہ حملے روس کے لیے گیارہ ستمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک روسی جنرل نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ ان کا ملک دہشت گردی سے بچاؤ کے لیے دہشت گردوں کے تربیتی کیمپوں پر کہیں بھی حملے کر سکتا ہے۔ حال ہی میں اپنی پارٹی کے کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر جارج بش نے ’ایک محفوظ دنیا کی تعمیر‘ کا وعدہ کیا تاہم ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ آج دنیا بھر کے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہوجانے کی بنیادی وجہ امریکی پالیسیاں ہیں۔ کیا ستمبر گیارہ کے حملوں کے تین برس بعد آج دنیا زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہے؟ کیا دہشت گردی کو روکنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کافی ہیں؟ کیا صدر بش کی طرف سے شروع کی جانے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کامیابی کی طرف بڑھ رہی ہے؟ آپ کا ردِّ عمل یہ فورم اب بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں
محمد اشفاق، فیصل آباد: جمہوریت کے علمبردار خود ہی عالمی جہموری ادارے اقوام متحدہ سے منظوری لیے بغیر جہاں چاہیں جنگ شروع کرلیتے ہیں۔ اس سے تو وہ خود ہی ڈِکٹیٹرشِپ کا سبق دے رہے ہیں۔ اس کے بعد دنیا کیسے محفوظ ہوسکتی ہے؟ کفیل احمد صدیقی، پاکستان: بین الاقوامی مسائل کے حل تک ہم دنیا کو پرامن نہیں بنا سکتے۔ لہذا سب سے پہلے فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جانا چاہئے۔ عمران خان، صوبہ سرحد: امریکی پالیسیاں در حقیقت دہشت گردی کے خلاف نہیں، بلکہ عالمی امن کے خلاف ہیں۔ ان پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کسی مذہب کو نشانہ نہ بنائے۔ عبدالجبار راؤ، پاکستان: صدر بش کی بیوقوفیوں اور نالائکیوں کی وجہ سے اب دنیا پہلے سے کہیں زیادہ غیرمحفوظ ہوگئی ہے۔بش نے غلط پالیسیوں کی وجہ سے پوری دنیا کو مایوسیوں کے اندھیرے میں دھکیل دیا ہے، اور دہشت گردوں کو کارروائیاں کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ قاسم علی، لندن: حقیقت یہ ہے کہ تشدد تشدد کو جنم دیتا ہے، اسی وجہ سے دہشت گردی مخالف جنگ کی پوریا دنیا میں مذمت کی جارہی ہے۔ جو لوگ امن میں یقین رکھتے ہیں معصوم انسانوں کے قتل کی حمایت نہیں کرتے۔ منور خان، الخُبر، سعودی عرب: حقیقت ساری دنیا جانتی ہے کہ دہشت گرد کون ہے؟ اگر بُش واقعی امن کے علبردار ہیں تو کامیابی ان کے قدم چومے گی۔مگر میرا خیال ہے کہ آج جو شخص بھی امریکہ سے امن کی امید رکھتا ہے وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔  | گیارہ ستمبر کا بدلہ  میرا خیال ہے اب امریکہ کو یہ جنگ بند کر دینا چاہیے کیونکہ وہ افغانستان اور عراق میں ہزاروں لوگوں کی جانیں لے کر گیارہ ستمبر کا بدلہ لے چکا ہے۔  اعجاز احمد، صادق آباد، پاکستان | اعجاز احمد، صادق آباد، پاکستان: امریکہ اپنی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہا ہے۔ ہمیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا واقعی صرف ایک شخص کی خاطر اتنے زیادہ بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے؟ میرا خیال ہے اب امریکہ کو یہ جنگ بند کر دینا چاہیے کیونکہ وہ افغانستان اور عراق میں ہزاروں لوگوں کی جانیں لے کر گیارہ ستمبر کا بدلہ لے چکا ہے۔
عبدالصمد، اوسلو، ناروے: دنیا گیارہ ستمبر سے پہلے بھی محفوظ تھی اور اس کے بعد بھی محفوظ ہے۔ دہشت گردی کو روکنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ امریکہ مسلمانوں کے بارے میں اپنی دوغلی پالیسیوں سے پرہیز کرے۔ ایس نقوی، مانچسٹر، یو کے: جو کچھ روس میں ہوا وہ ایک وحشیانہ حرکت تھی لیکن اس کے جواب میں اس سے بھی بڑھ کر وحشت کا مظاھرہ کیا گیا۔ یہ دنیا ایک نہ ختم ہونے والے ظلم اور شدت پسندی میں گھر چکی ہے۔ افسوس ہے کہ مفادات کی اس جنگ میں بے گناہ لوگ مارے جا رہے ہیں۔ راشد فراز، اونٹاریو، کینیڈا: جی نہیں۔ امریکہ اور اس کے حّواریوں کے استعماری اقدامات کی وجہ سے یہ دنیا عام لوگوں کے لیے انتہائی غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ ڈاکٹر شمس گیلانی، رچمونڈ، کینیڈا: اب تو دہشت گردی کا ناسور پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ بُش صاحب کی پالیسیاں مکمل ناکامی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔ موجودہ صورتِ حال کا واحد حل انصاف ہے، سب کے ساتھ انصاف۔  | اندھیری غار  پوری دنیا کو صدر بُش کی پالیسیوں نے ایک اندھیری غار کی جانب دھکیل دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان اور عراق میں جو لوگ مارے گۓ ہیں ان کا قصور کیا تھا  تنویر کاظمی، واہ کینٹ، پاکستان | تنویر کاظمی، واہ کینٹ، پاکستان: پوری دنیا کو صدر بُش کی پالیسیوں نے ایک اندھیری غار کی جانب دھکیل دیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان اور عراق میں جو لوگ مارے گۓ ہیں ان کا قصور کیا تھا۔ کیا وہ بچے جن کے والدیں آج ان کے سامنے قتل کیے جا رہے ہیں، کل بڑے ہونے پر اس ظلم کا بدلہ نہیں لیں گا؟
طلعت، کینیڈا: امریکی قیادت دہشت گردی کے معاملے کو مخلصانہ طور پر حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ دہشت گردی اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک کہ دہشت گردی کے اصل اسباب کا ازالہ نہیں کیا جاتا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں جاری آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی کا نام دے دیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گردی میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ نوروز خان، بریڈفورڈ، یوکے: دہشت گردی کاشکار صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ عراق اور افغانستان بھی ہیں۔ بدر، سپین: میرا خیال ہے کہ امریکہ دہشت گردی میں کمی کرنے کی بجائے دن بدن اضافہ ہی کر رہا ہے۔ طارق احمد انصاری، العین، یواےای: جی ہاں، بغیر کسی واضع ثبوت کے دہشت گردوں کے نام نہاد ٹھکانوں پر امریکی حملوں کے بعد اب یہ دنیا محفوظ نہیں رہی۔ عبدالرحیم احمد، واٹرلو، کینیڈا: نہیں، دنیا ویسی ہی ہے جیسی تھی۔ صرف اتنا ہوا ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں پائےجانے والےمایوس لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے مایوسیاں پھیلانے والوں کی نیندیں خراب ہونا شروع ہو گئی ہیں۔  | دہشت گردی یا آزادی کی جنگیں؟  اگرحالیہ جنگ واقعی دہشت گردی کے خلاف ہوتی تو شاید کامیاب بھی ہو جاتی۔ آج جن لوگوں کوو دہشت گردوں کا نام دے کر مارا جا رہا ہے، وہ دراصل اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی جنگیں عموماّ مقصد کے حصول پر ہی ختم ہوتی ہیں۔  سعید بٹ، لاہور، پاکستان | سعید بٹ، لاہور، پاکستان: اگرحالیہ جنگ واقعی دہشت گردی کے خلاف ہوتی تو شاید کامیاب بھی ہو جاتی۔ آج جن لوگوں کوو دہشت گردوں کا نام دے کر مارا جا رہا ہے، وہ دراصل اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسی جنگیں عموماّ مقصد کے حصول پر ہی ختم ہوتی ہیں۔
کمال احمد بٹ، جڑانوالہ، پاکستان: جب جب نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ آگے بڑھتی رہی گی تب تب دنیا ”امن سے محفوظ” ہوتی رہی گی۔ اسد رضا، ٹورنٹو،کینیڈا گیارہ ستمبر کیا ہوا بُش کو پوری دنیا پر حملہ کرنے کا حق مل گیا۔ گیارہ ستمبر سے زیادہ جانی اور مالی نقصان تو عراق اور افغانستان میں ہو چکا ہے۔ کیا یہ حق صرف امیر قوموں کے پاس ہے کہ وہ جس کو چاہیں دہشت گرد قرار دے دیں؟ محمد فدا، کینیڈا: جی ہاں۔ میرا خیال ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی کا ناسور مزید پھیلتا جا رہا ہے۔ روس میں تازہ ترین واردات اس بات کی گواہ ہے۔ انڈیا، پاکستان اور عرب دنیا بھی اس کی لپیٹ میں آتی جا رہی ہے۔ تمام ملکوں کو چاہیے کہ وہ امریکہ اور اس کی اتحادی فوجوں کی طرح دہشت گردی کے خلاف مضبوط قدم اٹھایں۔ سمن شیخ، لاہور، پاکستان: گیارہ ستمبر کے بعد کے اقدامات سے دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔  | ہیں کواکب کچھ  موجودہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں۔ یہ تو بزاتِ خود ایک دہشت گردی ہے۔  یوسف خان، مینگورہ، پاکستان | یوسف خان، مینگورہ، پاکستان: موجودہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں۔ یہ تو بزاتِ خود ایک دہشت گردی ہے۔
محمد زبیر جانا، کیلگری، کینیڈا: جب تک عالمی طاقتیں اپنی منافقانہ پالییسیاں ترک نہیں کرتیں، دنیا میں امن نہیں ہو سکتا۔ نعمان حارث رضا، کراچی، پاکستان: کیوں نہیں۔ گیارہ ستمبر سے پہلے خودکش حملوں کا نام تک نہیں سنا تھا اور اب یہ معمول بن گئے ہیں۔ علی رضا علوی، اسلام آباد، پاکستان: دہشت گردی کے خلاف جنگ نے سوائے لاشوں کے کیا دیا ہے۔ افغانستان سے عراق تک اور عراق سے واشنگٹن تک لاشیں ہی لاشیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر امریکہ مسلمان، عیسائی اور یہودی کا فرق کیے بغیر ایک مسلمان کے مرنے کو بھی ایک انسان کی موت سمجھے تو شائد دنیا میں امن کا خواب پورا ہو جائے۔ غلام فرید شیخ، سندھ، پاکستان: یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ دنیا سب قوموں کے لیے غیرمحفوظ ہو گئی ہے۔ حالیہ جنگ کا نشانہ صرف مسلمان ہی ہیں۔افغانستان، فلسطین، کشمیر، بوسنیا اور عراق میں مسلمان ہی تو ہیں جو کہ مارے جا رہے ہیں۔ شکیل احمد، کاواساکی، جاپان: دہشت گردی کیسی، یہ تو صرف ظلم کا جواب ہے۔ علی رضا، اسلام آباد، پاکستان: جب تک بُش اور اُسامہ موجود ہیں دنیا ایک محفوظ جگہ کیسے بن سکتی ہے۔  | گیارہ ستنمبر اور فہمِ اسلام۔  گیارہ ستمبر اور اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا ہے، اسلام کی غلط سمجھ کا نتیجہ ہے۔ کاش ہم مسمانوں نے اسلام کو صحیح طور پر سمجھا ہوتا تو آج ہم ان حالات سے دوچار نہ ہوتے۔  اشفاق نبی خان، امریکہ | اشفاق نبی خان، امریکہ: گیارہ ستمبر اور اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا ہے، اسلام کی غلط سمجھ کا نتیجہ ہے۔ کاش ہم مسمانوں نے اسلام کو صحیح طور پر سمجھا ہوتا تو آج ہم ان حالات سے دوچار نہ ہوتے۔
فاروق خان، کویت: آج ہر سطح پر گیارہ ستمبر کی کہانی دُھرائی جا رہی ہے۔ کہانی کا بنیادی متن ایک ہی ہے، یعنی مسلمان دہشت گرد ہیں۔ سی آئی اے اور پینٹاگون کی زیرِنگرانی اس کہانی کی شاندار کامیابی کے بعد اب روس نے بھی سوچ لیا ہے کہ وہ پیچھے کیوں رہے۔ عمران سیُد، مشیگن، امریکہ: دنیا عراق پر امریکی حملہ کے بعد جتنی غیرمحفوظ ہوگئی ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ راحیل علوی، لاہور، پاکستان: امریکہ بہت تیزی کے ساتھ اپنے دشمنوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ واحد سپرپاور ہونے کے ناتےامریکہ اگر چاہے تو کئی بین الاقوامی جھگڑوں میں مثبت کردار ادا کر کے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر سکتا ہے اور دنیا کو ایک پُرامن جگہ بنا سکتا ہے۔ آصف ججّا، ٹورنٹو، کینیڈا: یہ سب کھیل مشرقِ وسطٰی کے تیل کے ذخائر کو امریکی کنٹرول میں لانے کے لیے تھا۔ عمرعنائت، لاہور، پاکستان: دہشت گردی کی بنیادی وجہ بے انصافی ہے۔ زبیر عزیز، پاکستان: حقیقت تو یہ ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد، با لعموم پوری دنیااور بالخصوص مسلمان ممالک تباہی اور بربادی کا شکار ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کافی نہیں کیونکہ ابھی امریکہ کو کئی دوسرے اسلامی ملکوں کو اپنے زیرِعتاب لانا ہے۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر صدر بش کو مزید چار سال مل گئے تو وہ دوسرے اسلامی ملکوں کا کیا حال کریں گیں۔ عامر نصیر، لاہور، پاکستان: جب تک بین الاقوامی مسائل کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ اسد نعیم، لاہور، پاکستان: دنیا آج زیادہ غیر محفوظ ہے اور اس کی بنیادی وجہ غلط امریکی پالیسیاں ہیں۔ امریکہ کو یہ گمان ہو گیا ہے کہ وہ زمین پر خدائی منصف ہے۔ معظم شہزاد، سیول، کوریا: صدر بُش کی جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں ہے بلکہ صرف اسلامی ملکوں کے خلاف ہے۔ کاشف موسٰی، دبئی: گیارہ ستمبر کا بہانہ بنا کر امریکہ نے گزشتہ تین سالوں میں صرف اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے لیے عراق اور افغانستان پر حملے کیے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے دوران ان دو ملکوں میں جو کچھ ہوتا رہا ہے وہ سب کے سامنے آجائے گا۔ سونُومرزا، زاما سٹی، جاپان: یہ کیسا مذاق ہے کہ دہشت گرد ممالک دہشت گردی ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ دنیا جتنی آج غیر محفوظ ہے، شاید ہی کبھی تھی۔ محمد اخلاص، برطانیہ: یہ دنیا اب محفوظ نہیں رہی۔ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک، روزانہ انسان ایک دوسرے کا قتلِ عام کر رہا ہے اور یہ اس سے بھی بڑھنے والا ہے۔ اسد شاہ،لاہور، پاکستان: غیر محفوظ سعید پیرزادہ، نوشہرہ، پاکستان: انسان جب حیوانیت پر اتر آئے تو پھر وہ بچھو کی ہو جاتا ہے، ڈنک مارنا اس کی عادت بن جاتا ہے۔ امریکہ کی موجودہ قیادت کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ سمیع رحمان، تیمارگرہ، پاکستان: امریکہ خود محفوظ نہیں اس لیے باقی دنیا کو بھی ڈرا رہا ہے۔ عابد عزیز، حیدرآباد، پاکستان: امریکی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا غیرمحفوظ ہے۔ امجد چودھری، ٹوکیو، جاپان: اگر لوگوں کو انصاف مل جائے تو دہشت گردی خودبخود ختم ہو جائےگی۔ حامد مروت، اسلام آباد، پاکستان: جب مسلمان انتہا پسندوں کا دنیا سے صفایا ہوگا تو دنیا محفوظ ہو جائے گی۔ سیُد رفعت حسین شاہ، تبوک، سعودی عرب پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دہشت گردی جنم کیوں لیتی ہے؟ جب مایوسی حد سے بڑھ جائے تو دہشت گردی پھیلنے لگتی ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں جس طرح کے حالات واقعات رونما ہو رہے ہیں ان سے تو دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ محمد عامر خان، کراچی، پاکستان: بےحد غیر محفوظ۔ امریکہ اور روس نے پیشگی حملوں کی بات کر کے آگ کو مزید ہوا دے دی ہے۔ دوسری طرف ملاء حضرات بھی جہاد کے نام پر ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔ دنیا کو شدت پسندی سے پرہیز کرنا ہو گا۔ یہی امن کی ضمانت ہے۔ اختر نوا ز، لاہور،پاکستان: گیارہ ستمبر کا حوالہ انتہائی لایعنی ہے۔ دنیا کے غیرمحفوظ ہونے کے عمل کا آغاز اس دن ہوا تھا جب جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ کر کے سوئے ہوئے امریکہ کو جگا دیا تھا۔ دنیا کو اب محفوظ جگہ بننے میں بہت عرصہ لگے گا۔ ریاض انجم، سلمیہ، کویت: دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ عاطف آفریدی، کوہاٹ، پاکستان: امریکہ نے ظلم کا جواب ظلم سے دیا اور ہزاروں بےگناہ لوگوں کو قتل کیا ہے۔ اگر چاہے تو امریکہ دہشت گردی کو ختم کر سکا ہے۔ عفاّف اظہر، سکاربرو، کینیڈا: جب انسانیّت کو سب سے ذیادہ خطرہ خود انسان سے ہوتو پھر تحفظ کیسا؟ سیّد شاداب، ٹورنٹو، کینیڈا: دہشت گردی کے خلاف جنگ نے دہشت گردی میں اضافہ ہی کیا ہے۔ شاہدہ اکرم، ابوظبی، یواےای: دنیا کو دہشت گردی سے بچانے والے خود جانتے ہیں کہ ان کے بلندوبالا دعؤوں کے باوجود وہ آج اندرونی اور بیرونی دونوں محاظوں پر یہ جنگ ھار چکے ہیں۔ان ممالک میں ان کے اپنے شہری ہی ان کے خلاف ہو چکے ہیں۔ جی ہاں، دہشت گردی کے خلاف صدر بُش کی مہم بہت کامیاب جا رہی ہے۔ بس اب صرف معلوم یہ کرنا ہے کہ اصل دہشت گرد ہے کون؟ امریکہ یا وہ جو کہ امریکی دہشت گردی کا شکار ہو رہے ہیں؟۔ اسامہ سیّد، نیو دہلی، انڈیا: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پالیسیاں مہذب دنیا کے لیے خطرہ کا باعث ہیں۔ طارق محمود، سرگودھا، پاکستان: بُش کی پالیسیوں کی وجہ سے دنیا آج زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہے۔ پچھلے تین برسوں میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوا ہے ۔ علی عمران شاہین، لاہور، پاکستان: میرا خیال ہے کہ دہشت گردی کے نام نہاد جنگ صرف مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے۔ آج تین برس بعد بھی امریکی لوگ خوف کا شکار ہیں۔ اگر امریکہ واقعی اپنے شہریوں کے لیے امن کا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ افغانستان اور عراق سے اپنی فوجیں واپس بلائے۔  | جی ہاں  اگر بُش چاہیں تو دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ دنیا غیر محفوظ بھی تواُن ہی کی وجہ سے ہوئی ہے۔  کرن احمد، ٹورنٹو، کینیڈا |
کرن احمد، ٹورنٹو، کینیڈا: جی ہاں، اگر بُش چاہیں تو دنیا کو ایک محفوظ جگہ بنا سکتے ہیں کیونکہ یہ دنیا غیر محفوظ بھی تواُن ہی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ فیصل اظہر، نارتھ کیرولینا، امریکہ: دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ دہشت گردی ہوکیوں رہی ہے۔جب تک دہشت گردی کے اسباب کو نہیں سمجھا جاتا اس وقت تک یہ نام نہاد دہشت گردی جاری رہے گی۔ اور سچ تو یہ ہے کہ یہ دہشت گردی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں جاری آزادی کی جنگیں ہیں۔ |