برطانوی مسلم رہنماؤں کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی پولیس نے شدت پسند کارروائی کی منصوبہ بندی کے شبہے میں نو مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان میں سے سات پاکستانی نژاد ہیں۔ میڈرِڈ میں ہونیوالے حالیہ ٹرین دھماکوں کے پس منظر میں شدت پسندی کے بارے میں برطانوی عوام میں خدشات پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اخباروں نے ان مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو صفحۂ اول پر شائع کیا۔ تیس مارچ کے روز پولیس نے جنوب مشرقی برطانیہ میں چوبیس مختلف مقامات پر چھاپے مار آٹھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد میں ایک اور کارروائی میں نویں شخص کو گرفتار کیا گیا۔ ان چھاپوں کے دوران مغربی لندن کے ایک گودام سے نصف ٹن سے زائد امونیئم نائٹریٹ بھی برآمد کی گئی۔ پولیس کے مطابق یہ مواد ہے بم دھماکوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں لگ بھگ بیس لاکھ مسلمان ہیں اور ایک ہزار سے زائد مساجد۔ برطانیہ کی مسلم کونسل نامی تنظیم کی قیادت میں مسلم رہنماؤں نے ان گرفتاریوں کے بعد لگ بھگ ایک ہزار مساجد کے اماموں کو خط لکھا کہ اسلام میں تشدد اور معصوم انسانوں کے قتل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور مسلم رہنما ملک کی سلامتی کے لئے کام کریں۔ ان گرفتاریوں کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ یورپ میں رہنے والے مسلمان اور ان کے رہنما کیا کریں؟ اور یورپ اور امریکہ سے باہر کی دنیا میں بھی مسلمانوں کی سیاسی فکر کا رخ کیا ہونا چاہئے؟ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں ہاشم شیخ، حیدرآباد، پاکستان: بات جب برطانیہ کی آتی ہے تو پھر یہ اتنا بڑا موضوع ہے کہ ڈِسکسن بورڈ اس کے لئے کافی نہیں ہوگا۔ کیونکہ ساری دنیا میں فتنے کی جڑ یہی ملک ہے۔ امریکہ والوں کو بھی اسی ملک نے خراب کیا ہے۔۔۔۔ جوہر نواس، صوابی ٹھنڈوکی: میرے خیال میں مسلمانوں کو پرامن رہنا ہے، عقلمندی یہی ہے، چاہے وہ یورپ میں ہوں یا مشرق میں۔۔۔ سعید کھٹک، نوشہرہ، پاکستان: یہ تو ایک حقیقت ہے کہ نہ تو مسلمان ٹیرورُِسٹ ہوسکتا ہے اور نہ قاتل۔ اس کو پتہ ہے کہ ناحق قتل سے مسلمان جہنمی ہے۔۔۔۔
سلیم خان، ممبئی: برطانیہ کے مسلم رہنماؤں سے یہ امید نہ تھی۔ ہم تو انہیں امت مسلمہ کے بہتر مستقبل کے لئے قائدانہ کردار ادا کرنے والا سمجھتے تھے کیونکہ ہمارا خیال تھا کہ وہ مخالفوں کے بیچ رہ کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد صحیح فیصلہ کرتے ہوں گے۔ مگر اب ان کی مسلمانوں سے اپیل پر تعجب ہوتا ہے۔ حامد شیخ، سعودی عرب: دو سال ہی کی تو بات ہے کہ گیارہ ستمبر کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے مسلمانوں خصوصاً پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ کیا مسلمان رہنما وہ سب بھول گئے۔ مسلمانوں کو انصاف کی بات کرنی چاہئے کیونکہ ساری دنیا میں مسلمان ہی وہ واحد قوم ہے جو مظلوم ہے۔ محض چند کافروں کے مرنے پر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ایک ہوا کھڑا کیا گیا ہے جس کے دباؤ میں مسلم رہنما ایسے بیانات دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ سمیر سید، ریاض: برطانیہ میں رہ کر اپنے ایمان اور اپنی آئندہ نسلوں کی حفاظت کرنا ہی سب سے بڑا جہاد ہے۔ ایسے میں مسمانوں پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی صحیح تعلیمات سے آگاہ کریں۔ خانم سومرو، کراچی: سب سے پہلے تو مسلمانوں کو متحد ہونا پڑے گا اور پھر یہ تصور ختم کرنا ہو گا کہ صرف مسلمان ہی انتہا پسند ہیں کیونکہ میڈرڈ میں ہونے والے دھماکوں کے بعد مغربی دنیا کو مسلمانوں سے انتہا پسندی کا لیبل ہٹانا ہو گا۔ اب مسلمانوں کو مار نہیں کھانی بلکہ مارے والوں کا ہاتھ روکنا ہے۔ فیصل تقی، کراچی: قومیت یا شہریت خواہ کچھ بھی ہو لیکن فی الوقت مسلمان ہونا ہی دہشت گردی کے الزام کے لئے کافی ہے۔ مسلمانوں اور تمام دنیا کے مسائل کا واحد حل خلافت کے نظام کے دوبارہ قیام سے ممکن ہے۔ ابرار قاضی، ممبئی: کچھ لوگ یہ نہیں جانتے کہ ان کے ذاتی مفاد کی وجہ سے پوری مسلم قوم کو بدنام ہونا پڑتا ہے۔ تلاوت نخاری، اسلام آباد: اب دنیا میں تشدد اور نفرت کی ایک عجیب لہر چلی ہے اور اس کا الزام صرف مسلمانوں کو دینا غلط ہے۔ میں حیران ہوں کہ عراقی عوام نے آخر کیا گناہ کیا تھے کہ صدر بش ان پر چڑھ دوڑے۔ رہے مسلمان تو ان میں مذہبی رجحان کے حامل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔امریکہ نے طالبان پر حملہ کیا تو سیاسی مسلمانوں نے اس کی حمایت کی مگر صدام پر حملہ کر کے صدر بش نے ان کی تمام توقعات پر پانی پھیر دیا کہ سیکولر مسلمان بھی مغرب کی اندھی طاقت سے محفوظ نہیں ہیں۔ احمد خان، امریکہ: کاش کہ سارے انتہا پسند یہی قوت معاشرے سے دینی اور دنیاوی جہالت دور کرنے میں صرف کریں۔ عمران: ان سب حملوں کی ذمہ داری بھی مغربی ممالک پر ہے کیونکہ انہوں نے عارق اور افغانستان پر حملہ کیا۔
عبدا لہادی، کرغستان: اسلام مذہب سے زیادہ ایک نظریہِ حیات ہے جس میں لوگوں کی فلاح، جمہوریت اور اشتراکیت، ہر چیز سما جاتی ہے۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے جو صرف قرآن سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔ قرآن میں یہ نہیں لکھا کہ مارنا کیسے ہے؟ اس میں لکھا ہے کہ جینا کیسے ہے؟ عبدالحمید شیخ، حیدرآباد: پورے عالم میں امتِ مسلمہ کا رخ اسلام کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ سب سے پہلا اور مضبوط اصول ہے انصاف۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی مسلمان بے گناہوں کو قتل کر رہے ہیں وہ غلط کر رہے ہیں لیکن جہاں ان پر ظلم ہو رہا ہے وہاں انہیں بدلہ لینے کا پورا حق ہے۔ بوسنیا، فلسطین، کشمیر، گجرات، افغانستان اور عراق میں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اور وہ اتنے بے بس ہیں کہ دشمن پر سوائے فدائی حملوں کے اور کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر یہاں بھی یہ یہ برطانیہ کے رہنما اپنے فتوے چلاتے ہیں تو مسلمانوں کو ان پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔ عمران کاظمی، لاہور: جب بھی کچھ غلط ہوتا ہے تو مسلمانوں کو ہی ذمہ دار ٹہرایا جاتا ہے۔ اس کہانی کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم متحد نہیں ہیں اور اسلام دشمن قوتیں اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ مسلمانوں کو نوجوانوں کی برین واشنگ کے خلاف متحد ہوکر کچھ کرنا چاہئے جو انہیں انتہا پسند بناتی ہے۔ دنیا بھر اور خاص کر برطانوی مسلمانوں کو مل کر ایک بیان دینا چاہئے کہ آخر ہر اس قسم کے واقعے کا ذمہ دار مسلمانوں کو ہی کیوں ٹہرایا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس طرح کی دہشت گردی کی بھی مذمت کرنی چاہئے۔ اصغر خان، چین: مسلمان جن بڑی طاقتوں سے جن باتوں پر ناراض ہیں ان کا ازالہ ہونا چاہئے۔ عمران شہزاد، ملتان: اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں اس لئے تمام مسلمانوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیِے۔ ناصر، جرمنی: مسلمان کسی مغربی ملک میں آرام سے رہ ہی نہیں سکتے کیوں کہ ہم اس کے قابل ہی نہیں ہیں۔ ہمیں عزت سے اپنے وطن لوٹنے کی فکر کرنی چاہئے۔ یہاں منافقت سے رہنے کا کوئی فائدہ نیں۔ نسیم، جھنگ: اسوہِ حسنہ والی تعلیمات اگر عام ہو جائیں تو ہم نہ صرف سیاسی بلکہ ہر قسم کے مسائل سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ اگر ہوسکے تو کوئی ان رہنماؤں کو معتدل رہنے کی پالیسی سمجھا دے۔
ندیم فاروقی، کراچی: اسلام کا مطلب سب کے لئے امن ہے۔ اس میں کہیں معصوم لوگوں کی جان لینے کو نہیں کہا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ جہاد اسلام کا اہم جزو ہے لیکن اس کا قتلِ عام سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر کوئی اپ کی زمین چھیننے کی اور آپ کی نظریہ حیات بدلنے کی کوشش کرے تو آپ کو لڑنے کا حق حاصل ہے۔ دورانِ جنگ بھی ان لوگوں کو مارنے کا حکم نہیں ہے جو جنگ میں بذاتِ خود شریک نہ ہوں۔ جب فتحِ مکہ کے بعد حضور مکہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو پناہ میں لینے کا اور انہیں نہ مارنے کا حکم دیا تھا جو مسلمانوں کے خلاف نہیں لڑے۔ لوگوں کے خلاف دہشت گردی اسلام نہیں ہے اور دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں۔ شمس الاسلام، ٹوکیو: میں نے پچیس سال پاکستان میں اور باقی عمر جاپان میں گزاری ہے۔ میں بھی مسلمان ہوں لیکن سچی بات ہے کہ جو تنگ نظری مجھے مسلمانوں میں نظر آئی ہے وہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں نہیں ہے۔ مثلاً گیارہ ستمبر کے بعد فلسطین میں جشن ہوا اور کسی بھی مسلمان ملک میں ان حملوں کے خلاف مظاہرے نہیں ہوئے جبکہ عراق اور افغانستان پر حملوں کے وقت ہر جگہ مظاہرے ہوئے۔ پچھلے دنوں فلوجہ میں جو ہوا وہ عراق اور امریکہ کے عوام نہیں کرسکتے۔ شیخ یاسین کے قتل کی مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں نے مذمت کی۔ خواہش ہے کہ برطانوی مسلمان دہشت گردی کو مذہب سے الگ کرکے دیکھیں۔ عاصی عباس جعفری، انڈیا: میری تمام مسلمانوں سے یہی اپیل ہے کہ جاپانی عوام سے سبق سیکھیں جس نے اپنی محنت اور تعلیم سے دنیا کو مٹھی میں لے لیا ہے جبکہ جہادی لوگوں نے اسلام کے تصور کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ رسول کی تعلیم یہی ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو نقصان نہ پہنچے اور اسے اپنے عمل سے ثابت کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے۔ محمد کاشف، کویت: چڑھتے سورج کی طرح یہ بات واضح ہے کہ مغربی کلچر اسلام دشمنی کی بدترین مثال ہے۔ ظلمت کے ان اماموں کو خط لکھے جائیں جن کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں اور اپنے مذہب پر تنقید بعد میں کی جائے۔ ہمارے نبی نے بھی باطل کے خلاف یہی راہ اختیار کرتے ہوئے ہجرت کی، مغربی مسلمانوں کو بھی ہجرت کرنی چاہئے۔ مختار نقوی، فلوریڈا: برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے۔ اس کا نقصان صرف ان ہی کو ہوگا۔ انہیں معاشی اور تعلیمی سطح پر ترقی کرنا چاہیے۔ اصغر خان، برلن: یہ سب غیرقانونی طور پر آنے والے لوگوں کی حرکتیں ہیں جو کہ یورپ میں آکر قانونی ہونا جاتے ہیں مگر ان کی ذہنیت نہیں بدلتی۔ یہ پاکستان کی بدنامی کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس مسئلے پر سارے یورپ کے مسلمان علماء کے ساتھ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||