برطانوی مسلمان نوجوان ناخوش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی مسملمان نوجوانوں میں سیاسی بحث جاری ہے اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ یہ بحث مسلمان آبادیوں کی مسلسل جانچ کے ساتھ ساتھ زور پکڑ رہی ہے۔ اس بحث کے بارے میں ایک بات وثوق سے کی جا سکتی ہے کہ یہ صرف اس بارے میں نہیں کہ ان نوجوانوں کی دنیا گیارہ ستمبر کے بعد کس طرح تبدیل ہوئی۔ نوجوان برطانوی مسلمان سمجھنا چاہتے ہیں کہ برطانوی اور مسلمان ہونے کا کیا مطلب ہے؟ ان کی بحث کا ایک پہلو معاشرے میں اُن کے مقام یا حیثیت پر عدم اطمینان ہے۔ یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا اس عدم اطمینان میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا سیاسی انتہا پسندی سے کیا رشتہ ہے۔ مسلم یوتھ ہیلپ لائن نامی تنظیم سے، جہاں لوگ فون کر کے اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں، معلوم ہوا کہ زیادہ تر نوجوان، منشیات، خاندانی، نفسیاتی اور جنسی مسائل کے بارے میں رابطہ کرتے ہیں۔ جو چیز صورتحال کو خراب کرتی ہے وہ ایسی تنظیموں کی کمی ہے جو ایسے مسلمانوں کے مسائل کی طرف دھیان دے سکیں جو اپنے تشخص کے مسئلے میں الجھے ہوئے ہوں۔ مسلم یوتھ ہیلپ لائن کی رُکن شریفہ فلات نے بتایا کہ ان کے تجربے میں آیا ہے کہ زیادہ تر نوجوان کسی طرح حالات سے سمجھوتہ کر کے زندگی گزار دیتے ہیں۔ شریفہ نے بتایا کہ عین ممکن ہے کہ وہ نوجوان جو انتہا پسندی یا اس کی حدوں پر ہیں اپنی ذاتی زندگی کے مسائل کو توجہ نہ ملنے کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ہوں۔ بین الاقوامی حالات بھی ،جہاں ان کے خیال میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مساوی ہو رہا ہے، ان میں بڑھتے ہوئے غصے کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ مسلمان نوجوانوں میں سیاسی شعور کی بیداری کو بہت سے لوگ مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں حالانکہ ابھی اسلام میں ووٹنگ کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں بھی بحث جاری ہے۔ پینتیس سالہ بلال پٹیل نے اپنے ہم عمر ساتھیوں کی مدد سے سن دو ہزار ایک میں انتخابات میں حصہ لیا اور ان کو صرف تیرہ سو ووٹ ملے۔ اس نتیجے سے ان کی ضمانت تو نہیں بچی ہو گی لیکن وہ آئندہ اس طرح کی کوشش کے بارے میں محتاط ہو گئے۔ پٹیل نے بتایا کہ نوجوانوں میں مایوسی کی ایک وجہ یہ احساس ہے کہ اُن کے بڑے ایسے سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں جو ان کو معشرے میں برابر مقام نہیں دینا چاہتے۔ انہوں نے کہا وہ اپنے بزرگوں سے ناخوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت سخت موقف رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے، اور اگر وہ خود ایک نوجوان مسلمان کی حیثیت سے بات کریں تو انہیں انتہا پسند قرار دے دیا جاتا ہے۔ پٹیل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی صورتحال میں نوجوانوں میں ذرائع ابلاغ اور سیاستدانوں کے لئے بد اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی ایک وجہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی یہ صورتحال اس حد تک نہیں پہنچی کہ انہیں کچھ کرنے پر مجبور کر دے لیکن سوالات پیدا کرنے کے لئے کافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ کچھ چھوٹی باتیں بھی ہوتی ہیں جو لوگوں میں غصے کا باعث بنتی ہیں، مثلاً ڈیوڈ بلنکٹ کا بیان کہ نوجوانوں کو گھر میں انگریزی زبان میں بات کرنی چاہیے۔ پٹیل نے کہا کہ جنہوں نے بریڈفورڈ میں دنگے کئے تھے وہ سب انگریزی ہی بولتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں نوجوان مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لئے راستے بند ہو چکے ہیں اور اپنے بڑوں اور سیاستدانوں پر اعتبار کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں‘۔ پٹیل نے کہا کہ یہ نوجوان اپنی برطانوی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور سیاستدانوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||