ایران: نو کمپنیوں پر امریکی پابندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے نو غیرملکی کمپنیوں پر پابندی عائد کردی ہے جو ایران کو ایسی ٹیکنالوجی فروخت کررہی تھیں جن کا استعمال میزائیل اور کیمیائی ہتھیار بنانے میں ہوسکتا ہے۔ ان میں دو بھارتی، چھ چینی اور دو آسٹریائی کمپنیاں شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اب یہ کمپنیاں امریکی حکومت کے ساتھ کوئی بزنس نہیں کرسکیں گیں اور نہ ہی وہ امریکی کمپنیوں سے نئی ٹیکنالوجی خرید سکیں گیں۔ ان کمپنیوں پر پابندیاں سن دو ہزار میں منظور کیے جانے والے امریکی قانون ایران نان پروفلریشن ایکٹ کے تحت عائد کی گئی ہیں۔ امریکہ نے یہ قانون اس لیے بنایا تھا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ملنے والی عالمی ٹیکنالوجی پر روک لگائی جاسکے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتا رہا ہے اور برطانیہ، جرمنی اور فرانس کی ایک مشترکہ سفارتی کوشش کے تحت ایران کے ایٹمی منصوبے کو روکونے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایران ہمیشہ سے کہتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت ایٹمی منصوبہ جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔ | اسی بارے میں نیوکلیئر: ایران کومزید مہلت22 November, 2005 | آس پاس حق سےمحروم نہیں کیا جا سکتا: ایران26 November, 2005 | آس پاس ایران: نئے ایٹمی بجلی گھرکی تعمیر05 December, 2005 | آس پاس ’ایران پر دنیا کے صبر کی انتہا‘09 December, 2005 | آس پاس ویانا: ایران، یورپی یونین مذاکرات 21 December, 2005 | آس پاس ’ہم ایران کا یورینیم افزودہ کریں گے‘25 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||