ویانا: ایران، یورپی یونین مذاکرات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے ایٹمی تنازعے پر مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران اور یورپی یونین کے تین ملکوں کے نمائندے ویانا میں ملاقات کریں گے۔ امریکہ اور یورپی یونین ایران کو ایٹمی ہتھیار کی تیاری میں استعمال ہونے والا ایندھن بنانے سے باز رکھنا چاہتے ہیں۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کسی سمجھوتے کی امید بہت کم ہے کیونکہ حالیہ مہینوں میں ایران اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ ایران کے صدر محمد احمدی نژاد کی جانب سے اسرائیل مخالف بیانات کے بعد یہ مذاکرات کا پہلا دور ہو گا۔ ایران کے ایٹمی تنازعے پر مذاکرات اگست میں تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب ایران نے یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایران کا اصرار تھا کہ یہ اس کا حق ہے کیونکہ وہ ایٹمی توانائی کو پرامن مقاصد کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد سے کسی بھی سطح پر براہ راست مذاکرات نہیں ہوئے ہیں تاہم صدر احمدی نژاد کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت بیانات کی ساری دنیا میں مذمت کی گئی ہے۔ ایرانی صدر نے اسرائیل کو ایک ناسور قرار دیا تھا جسے ان کے مطابق دنیا کے چہرے سے ہٹایا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ اسرائیل کو اپنی موجودہ جگہ سے ہٹا کر یورپ میں لے جایا جائے۔ ایران کے بارے میں یورپی یونین کے رویے میں بھی سختی آ رہی ہے اور ایران کے انسانی حقوق کے معاملے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے نوبل انعام یافتہ سربراہ محمد البرادی نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی مسئلے پر دنیا کی برداشت ختم ہو رہی ہے۔ |
اسی بارے میں طیارہ عمارت سے ٹکرا کر تباہ06 December, 2005 | صفحۂ اول ویڈیو دیکھیں: طیارہ عمارت سے ٹکراگیا06 December, 2005 | صفحۂ اول آئی اے ای اے کی قرارداد 24 September, 2005 | صفحۂ اول ایران کی یورپی یونین کو تنبیہ11 September, 2005 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||