کابل: پارلیمنٹ کے قریب بم دھماکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے داراحکومت کابل میں پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے قریب ایک کار میں بم دھماکہ ہوا ہے۔ اس حملے میں مشتبہ خود کش حملہ آور بھی مارا گیا ہے۔ دھماکہ پارلیمنٹ کی عمارت سے محض پانچ سو میٹر کے فاصلے پر ہوا ہے جہاں پیر کی صبح منتخب نمائندے پارلیمنٹ کی تاریخ کا آغاز کرنے والے ہیں۔ اس حملے میں دو راہ گیر بھی زخمی ہوئے ہیں اور بین الااقوامی امن فوج کی ایک گاڑی کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ طالبان نے پارلینمٹ کی کارروائی کو متاثر کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کارروائی میں کئی غیر ملکی حکام بھی شرکت کریں گے۔ طالبان کے ایک ترجمان قاری محمد یوسف نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ حملہ کا نشانہ پارلیمنٹ کی عمارت تھی لیکن حملہ آور نے پاس سے گزرنے والی بین الاقوامی امن فوج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نےکہا کہ پارلیمنٹ ملک میں امریکی قبضے کی علامت ہے اور یہ افغان عوام کی نمائندہ نہیں۔ہم مستقبل میں بھی اس قسم کی امریکی علامتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ ایک عینی شاہد کا کہنا ہے کہ’یہ ایک بڑا دھماکہ تھا۔ میں سکتے میں چلا گیا۔ اس سے جیپ کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی‘۔ بین الاقوامی امن فورس کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی بھی رکن اس حملے میں زخمی نہیں ہوا۔ طالبان نے ملک کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس سال تشدد کے واقعات میں پندرہ سو افراد مارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ کابل میں دو خودکش حملوں میں ایک جرمن فوجی اور آٹھ افغانی ہلاک ہو گئے تھے۔ صدارتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حملے سے افغانستان میں جمہوریت کے آغاز کا عمل متاثر نہیں ہوگا۔ اس سال ستمبر میں ملک کی قومی اسمبلی کی دو سو انتالیس نشتوں کے لیے انتخابات ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں ’امریکی غلطی‘: چار افغان ہلاک 07 October, 2005 | آس پاس ہلمند میں اٹھارہ پولیس اہلکار ہلاک11 October, 2005 | آس پاس ہلمند: نو افغان پولیس اہلکار ہلاک 22 October, 2005 | آس پاس افغانستان انتخابات کے نتائج کا اعلان12 November, 2005 | آس پاس افغانستان سارک کا رکن بن گیا13 November, 2005 | آس پاس افغانستان کا ’دشمن صوبہ‘09 December, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||