ہندو شادی کے بعد بوسے پر جرمانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں شادی کرنے والے ایک اسرائیلی جوڑے پر انکشاف ہوا ہے کہ وہ شادی کے موقع پر دلہن کو بوسہ نہیں دے سکتے۔ ان میاں بیوی کو اپنی شادی پر بوسہ لینے کی ’نامناسب حرکت‘ کرنے پر بائیس ڈالر کا جرمانہ کیا گیا۔ راجستھان کی ایک عدالت نے یہ جرمانہ آلون اورپاز اور تہیلہ سالاو کے پوشکار میں روایتی ہندو رسم ورواج کے مطابق شادی کرنے کے فیصلہ کے بعد کیا۔ ہندو مذہبی رہنما روایتی ہندو رسم کے دوران اسرا ئیلی جوڑے کے بغل گیر ہونے اور بوسہ لینے پر بہت برہم ہوئے تھے۔ شرمندہ جوڑے نے کہا ہے کہ ان کے علم میں نہیں تھا کہ ایسے موقع پر بوسہ لینے پر پابندی تھی۔ اسرائیلی جوڑے کو جن کی ملاقات انڈیا میں سیر کرتے ہوئے ہوئی تھی، دس دن کی قید کی سزا سے بچنے کے لیے ایک ہزار روپیہ جرمانہ دینا پڑا۔ ہندو مذہبی رہنماؤں نے ان دونوں کے خلاف ہندوؤں کےجذبات کو ٹھیس پہنچانے پر کیس دائر کیا تھا۔ جوڑے نے کہا ہے کے وہ اپنی تہذیب کے مطابق بغل گیر ہوئے اور ان کا ارادہ کسی کو دکھ پہنچانا نہیں تھا۔ ان کی معافی کے بعد ایک مذہبی رہنماء نے کہا ہے کہ ان دونوں کو معاف کر دیا گیا ہے۔ پوشکار جھیل کے کنارے موجود پوشکار شہر ہندو مذہب کے لوگوں اور سیاحوں میں زیارت کے مقام کے طور پر یکساں مقبول ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||