BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 September, 2005, 01:43 GMT 06:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش پر دباؤ، امدادی کارروائیاں تیز
News image
زندگی معممول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں
صدر بش نے چینی صدر سے ملاقات سمیت تمام مصروفیات منسوخ کر دی ہیں جن میں چین کے صدر ہوو جن تاؤ سے ملاقات بھی شامل تھی اور اگلا پورا ہفتہ جنوبی ریاستوں میں سمندری طوفان سے متاثرین کی مدد کے لیے کاموں کی نگرانی کے لیے مخصوص کیا ہے اور مزید 17 ہزار فوجی بھی بھیجے جا رہے ہیں۔

ان میں سے سات ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان صدر بش نے خود کیا ہے جبکہ باقی دس ہزار کا اعلان پینٹاگون نے بعد میں کیا ہے۔ اس دوران میں امدادی کاموں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ چالیس طیارے بھی امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔

صدر بش نے کہا کہ وہ آئندہ پیر کو ان متاثرہ علاقوں کا ایک بار پھر دورہ کریں گے تاکہ امدادی کارروائیوں کا خود جائزہ لے سکیں۔

امریکی حکام نے امدادی کارروائیوں اور عارضی ملازمتوں کے لیے قریباً نو کروڑ ڈالر مختص کیئے جانے کا اعلان بھی کیا ہے اور توقع ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائیس اور وزیر دفاع ڈونلڈز رمزفیلڈ اتوار کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔

صدر بُش نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور رد عمل سست تھا لیکن اب امدادی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔

انہوں نے ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ یہ اطمینان نہیں کر لیتے کہ امداد ہر جگہ پہنچنا شروع ہو چکی ہے اور امن بھی قائم ہو گیا ہے۔

صدر بش کو اس وقت اس سمندری طوفان کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ سمندری طوفان سے نمٹنے کی موثر کارروائیاں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ سمندری طوفان کی تباہ کاری کے خلاف غیر تسلی بخش حکومتی ردِ عمل کی شکایات کی تحقیقات شروع کر رہا ہے۔

اپنے خطاب میں صدر بش نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ طوفان کے بعد امدادی کارروائیاں سست تھیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ طوفان انتہائی شدید تھا اور اس کے سامنے ہم سب بونے ہو کر رہ گیے تھے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال اب بہتر ہونا شروع ہو چکی ہے اور امریکہ کی طوفان سے متاثرہ مشرقی ریاستوں میں فوجی ٹرکوں کے ذریعے امداد پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

تاہم امن و امان کی انتہائی خراب صورتِ حال کے باعث امدادی سامان تقسیم نہیں ہو پا رہا ہے۔

طوفان کے پانچ روز بعد خوراک، پانی اور دوائیوں کی بڑی مقدار ساحلی شہر نیو آرلینز پہنچ چکی ہے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کی آمد کے بعد بھی لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد