بش پر دباؤ، امدادی کارروائیاں تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش نے چینی صدر سے ملاقات سمیت تمام مصروفیات منسوخ کر دی ہیں جن میں چین کے صدر ہوو جن تاؤ سے ملاقات بھی شامل تھی اور اگلا پورا ہفتہ جنوبی ریاستوں میں سمندری طوفان سے متاثرین کی مدد کے لیے کاموں کی نگرانی کے لیے مخصوص کیا ہے اور مزید 17 ہزار فوجی بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ ان میں سے سات ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان صدر بش نے خود کیا ہے جبکہ باقی دس ہزار کا اعلان پینٹاگون نے بعد میں کیا ہے۔ اس دوران میں امدادی کاموں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ چالیس طیارے بھی امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ وہ آئندہ پیر کو ان متاثرہ علاقوں کا ایک بار پھر دورہ کریں گے تاکہ امدادی کارروائیوں کا خود جائزہ لے سکیں۔ امریکی حکام نے امدادی کارروائیوں اور عارضی ملازمتوں کے لیے قریباً نو کروڑ ڈالر مختص کیئے جانے کا اعلان بھی کیا ہے اور توقع ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائیس اور وزیر دفاع ڈونلڈز رمزفیلڈ اتوار کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ صدر بُش نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور رد عمل سست تھا لیکن اب امدادی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ٹی وی کے ذریعے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک وہ یہ اطمینان نہیں کر لیتے کہ امداد ہر جگہ پہنچنا شروع ہو چکی ہے اور امن بھی قائم ہو گیا ہے۔ صدر بش کو اس وقت اس سمندری طوفان کی وجہ سے کڑی تنقید کا سامنا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ سمندری طوفان سے نمٹنے کی موثر کارروائیاں کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ سمندری طوفان کی تباہ کاری کے خلاف غیر تسلی بخش حکومتی ردِ عمل کی شکایات کی تحقیقات شروع کر رہا ہے۔ اپنے خطاب میں صدر بش نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ طوفان کے بعد امدادی کارروائیاں سست تھیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ طوفان انتہائی شدید تھا اور اس کے سامنے ہم سب بونے ہو کر رہ گیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال اب بہتر ہونا شروع ہو چکی ہے اور امریکہ کی طوفان سے متاثرہ مشرقی ریاستوں میں فوجی ٹرکوں کے ذریعے امداد پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ تاہم امن و امان کی انتہائی خراب صورتِ حال کے باعث امدادی سامان تقسیم نہیں ہو پا رہا ہے۔ طوفان کے پانچ روز بعد خوراک، پانی اور دوائیوں کی بڑی مقدار ساحلی شہر نیو آرلینز پہنچ چکی ہے لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کی آمد کے بعد بھی لوگوں کا غصہ کم نہیں ہوا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||