ہلاک شدگان کی تدفین شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کےدارالحکومت بغداد میں كاظميہ مسجد کے قریب امام موسٰی کاظم کے یومِ شہادت پر مچنے والی بھگدڑ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین شروع ہو گئی ہے۔ عراقی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس واقعے میں نو سو ساٹھ عزادار ہلاک اور چار سو ساٹھ زخمی ہوئے تھے۔ عراق میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ حضرت امام موسیٰ کاظم کے یومِ شہادت پر نکالے جانے والے جلوس میں شامل لاکھوں افراد مزار کی طرف جانے کے لیے دریائے دجلہ کے پل سے گزر رہے تھے کہ کسی نے خود کش حملہ آور کی موجودگی کی افواہ اڑا دی جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ دریائے دجلہ کے پل سے نیچے گر گئے۔ سرکردہ مذہبی شیعہ رہنماؤں نے اس واقعے کی ذمے داری معزول صدر صدام حسین کے حامیوں پر ڈالی ہے۔ عراق کے وزیر دفاع نے کہا تھا کہ بھگدڑ کا علاقے میں پائی جانے والی فرقہ وارانہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ پُل کے حصے پر تلاشی لی جانی تھی جس سے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور وہاں کسی کی ایک چیخ سنائی دی اور اس کے بعد ’یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا‘۔ دریں اثناء عراق کے وزیر صحت عبدالمطلب محمد علی نے وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ عراق میں رہنماؤں نے لوگوں سے امن کی اپیل کی ہے تاکہ بدھ کو ہونے والا سانحہ مزید تشدد کا باعث نہ بنے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||