بغداد: 1000 کی ہلاکت کا خدشہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کےدارالحکومت بغداد میں كاظميہ مسجد کے قریب امام موسٰی کاظم کی برسی کےجلوس پر بھگدڑ مچ جانے سے سینکڑوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ عراقی پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات سو تک پہنچ سکتی ہے۔ حضرت امام موسیٰ کاظم کی برسی کے سلسلے میں نکالے جانے والے جلوس میں شامل لاکھوں افراد مزار کی طرف بڑھ رہے تھے کہ جلوس میں خود کش حملہ آور کی موجودگی کی افواہ سے بھگدڑ مچ گئی اور بہت سے لوگ دریائے دجلہ کے پل سے گر گئے۔ عراق کے نائب وزیر صحت جلال الشماری نے ایک خبر رساں ایجنسی کوبتایا کہ بھگدڑ افواہ پھیل جانےسے مچی۔ عراق کےایک فوجی افسر نے بتایا کہ اچانک قیامت ٹوٹ پڑی۔ متعدد زخمی عورتیں اور بچے چیخ رہے تھے۔ ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ امام موسیٰ کاظم کی برسی کے موقع پر ہزاروں لوگ مسجد کے قریب جمع تھے۔ علاقے میں دن کے وقت مارٹ گولے بھی داغے گئے جس سے وہاں پہلے ہی کشیدگی پائی جا رہی تھی۔ عراق کے وزیر دفاع نے بتایا کہ اس حملے میں صرف سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھگدڑ کا علاقے میں پائی جانے والی فرقہ وارانہ کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ پُل کے حصے پر تلاشی لی جانی تھی جس سے لوگ جمع ہونا شروع ہو گئے اور وہاں کسی کی ایک چیخ سنائی دی اور اس کے بعد ’یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||