مصر دھماکے: ہلاک شدگان 88 ہوگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے سیاحتی مرکز شرم الشیخ میں ہونے والی کئی دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 88 ہو چکی ہے جبکہ ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اس دوران صدر حسنی مبارک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ کر کے رہیں گے۔ جب کے امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مصر کو جو بھی مدد درکار ہو گی فراہم کرے گا۔ اس سے پہلے مصری پولیس نے بتایا تھا کہ بحیرہ احمر پر واقع سیاحتی مقام شرم الشیخ شہر کے پرانے مارکیٹ اور خلیج نعمہ کے علاقے میں زور دار دھماکے ہوئے۔ اس دھماکوں میں مصری باشندوں کے علاوہ غیر ملکی بھی ہلاک ہوئے ہوئے ہیں۔ خلیج نعمہ کے علاقے میں واقع غزالہ گارڈنز ہوٹل خود کش کار بم حملے میں بری طرح متاثر ہوا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم عبداللہ اعظم بریگیڈ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ عبداللہ اعظم بریگیڈ نے ایک اسلامی ویب سائٹ پر لگائے گئے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یہ دھماکے کیے ہیں۔اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||