شرم الشیخ میں کیا دیکھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصرکے تفریحی مقام شرم الشیخ پرچھٹییاں گزارنے کے لیے آنےوالے ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نےجو بم دھماکوں کے وقت موجود تھے ان دھماکوں کے بارے میں کچھ اس طرح اپنے تاثرات بتائے۔ دھماکوں کے وقت تقریبا ایک بجے (گیارہ جی ایم ٹی) کے مطابق شراب خانوں اور چائے خانوں میں بہت سے لوگ جمع تھے۔ کچھ گلیوں میں گھوم پھر رہے تھے جبکہ کچھ اپنے ہوٹلوں کے کمروں میں سوئے ہوئے تھے۔ لندن میں دو ہفتے قبل ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے بعد چھٹیاں منانےکے لیے مصر جانے والے لندن کے ایک پولیس آفیسر چارلی آئی ویس کا کہنا تھا کہ وہ، اس کی بیوی اور دو اور دوست بم دھماکے کی جگہ سے پچاس میڑ دور گلی کے ایک کیفے میں بیٹھے تھے کہ جب دھماکے ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ چار منٹ کے وقفے سے دو دھماکے ہوئے۔ پہلا ایک بڑا اور زور داردھماکہ تھا۔ انہوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کوادھر ادھر بھاگتے ہوئے دیکھا۔ اس کے چار منٹ بعد دوسرا دھماکہ ہوا۔ ایک اور برٹش پولیس آفیسر کرس رے نولڈ نے بم دھماکے کو انتہائی خوفناک قرار دیا۔ بی بی سی کو ٹیلی فون پر بم دھماکے کے بارے میں بتا تے ہوئے انہوں نے کہا کہ سڑک پر ہر جگہ لاشیں بکھری نظر رہی ہیں۔ اٹلی کے ایک شہری نےایک خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ اور اس کی بیوی اپنے سترہ سال کے بیٹے کو ہوٹل غزالہ گارڈنز میں چھوڑ کر وآپس جا رہے تھے کہ اسی ہوٹل میں ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ دھماکے کی آواز سن کرہوٹل کی جانب دوڑے تاکہ اپنے بیٹے کے بارے میں جان سکیں لیکن وہ اپنے کمرے میں موجود نہیں تھا۔ ’میں نہیں جانتا کہ کیا ہوا ہے؟ کیونکہ مجھے ہسپتال کےاندر جانے نہیں دیا جا رہا ہے‘ ایک ریسٹورنٹ کے مالک یحیی محمدنے بتایا کہ پہلا دھماکہ پرانی مارکیٹ کے علاقے شرم الشیخ میں ہوا ہے۔ ’میں نے ایک کار کو ہوا میں اڑتے اور لوگوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا‘ انہوں نے کہا کہ وہ اس منظر کوشاید ساری زندگی نہیں بھول سکتے۔ یہ مصر میں دہشت گردی کا انتہائی سنگین واقعہ ہے۔ عینی شاہد فیبیو بیسون نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نعمہ کےساحل پر موجود کیفے ہارڈ روک میں تھے جب انھوں نے پہلےچھوٹےدھماکے کی آواز سنی۔ ’پہلے دھماکے کے بعد جیسے ہر چیز خاموش ہوگئی پھرچند سیکنڈ کے بعد ایک اور زور دار دھماکہ ہوا‘ انہوں نے بتا یا کہ دھماکوں کے بعد وہ باہر نکلے تو انہوں نے سینکڑوں لوگوں خوف ذدہ حالت میں مختلف سمتوں میں دوڑتے ہوئے دیکھا۔ ’میں نے ایک ہوٹل کے سامنے والے حصے کو با کل تباہ اور چیزوں کو ہرطرف بکھراہوا پایا‘ انہوں نے بتایا کہ ہوٹل کے فرش پر دو لاشیں پڑی ہوئی تھیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ لوگ مر چکے تھے یا نہیں۔ سی نائی کسینو میں کام کرنے والے یحیی گبر نے بتایا کہ ان کے دوست نے جو نعمہ کے ساحل سے آرہا تھا۔ تفریحی جگہ کے بیچ میں اپنی آنکھوں سےدھما کے سے کار کو اڑتے ہوئے دیکھنے کے بعد انتہائی خوف ذدہ اور صدمہ کی سی حالت کا شکار ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس نے دیکھا کے کار سے جلتی ہوئی چیزیں باہر آرہی تھیں۔ برطانوی سیاح سمانتھا ہارڈ کیسل نے بتایا کہ وہ اپنی زندگی میں کبھی اتنی خوف ذدہ نہیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر اپنے ہوٹل کے باہر بیٹھے تھے کہ جب ایک زور دار دھماکہ ہوا اور اس کے تین منٹ بعد ایک اور دھماکے کی آواز سنی۔ ’ہم نے محسوس کیا کہ دھماکہ بہت خوفناک تھا اور جس ہوٹل میں ہم بیٹھے تھے وہاں ہر چیز جیسے سکتے کی حالت میں چلی گئی تھی‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||