’دو ہزار دو میں الزام لگا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کی جاری کردہ دستاویزات کے مطابق سن دو ہزار دو میں خلیج گوانتانامو میں کیمپ ایکسرے کے ایک قیدی نے امریکی گارڈز پر قرآن مجید کے ایک نسخے کو بیت الخلاء میں بہانے کا الزام عائد کیا تھا۔ دستاویز میں اس الزام کے موجود ہونے کا اعتراف امریکی جریدے ’نیوز ویک‘ کے اسی نوعیت کی خبر شائع ہونے پر دنیا بھر میں ہنگاموں کے بعد کیا گیا ہے۔ افغانستان میں ’نیوز ویک‘ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں پندرہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس تنازعہ کی صورت میں ’نیوز ویک‘ کے ایڈیٹر نے خبر شائع کرنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس خبر کو واپس لے رہے ہیں کیونکہ انہیں قرآن مجید کی بے حرمتی کے الزامات کے بارے میں کوئی اور تصدیق شدہ اور معاون ثبوت نہیں ملا ہے۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے بھی کہا تھا کہ اسے اس بات کو کوئی قابلِ یقین ثبوت نہیں ملا ہے کہ کسی قیدی نے امریکی فوجیوں پر اس طرح کے الزامات عائد کیے ہوں۔ لیکن پھر شہری حقوق کی تنظیم ’امیرکن سول لبرٹیز یونین‘ نے درخواست دی تھی کہ خفیہ تنظیم ایف بی آئی کی دستاویزات کو منظر عام پر لایا جائے۔ جاری کیے گئے دستاویزات میں ’نیوزویک‘ کی خبر کی تصدیق اس بات سے ہوئی کہ ان میں امریکی فوجیوں پر قرآن مجید کی بے حرمتی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ایک ایف بی آئی ایجنٹ نے( جس کا نام
سول لبرٹیز یونین نے کہا ہے کہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پینٹاگون ان الزامات کے بارے میں لاعلم نہیں تھا لیکن اس نے بدسلوکی اور تشدد کے واقعات پر کوئی دھیان نہیں دیا۔ پینٹاگون نے ان دستاویزات پر کوئی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ سابق قیدیوں کی طرف سے لگائے جانے والے بیشتر الزامات غلط ثابت ہوئے ہیں۔ سول لبرٹیز یونین کے جمیل جعفر نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے گزشتہ چند سالوں میں ہم پر یہ آشکار ہوا ہے کہ امریکی حکام کے بیانات کے برعکس قیدیوں کے الزامات اکثر درست ثابت ہوئے ہیں۔ ایف بی آئی کی طرف سے جاری ہونے والی دستاویزات سے قیدیوں کی طرف سے لگائے گئے اور الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ انہی دستاویزات میں ایک قیدی کا وہ الزام بھی ریکارڈ کیا گیا ہے کہ ایک خاتون تفتیشکار نے اپنا ماہواری کا خون اس کے منہ پر مل دیا۔ دریں اثنا انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خلیج گوانتانامو کے قیدخانے کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے اس دور کا ’گولاگ‘ قرار دیاہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||