’کرد رہنماء پرمقدمہ غیرمنصفانہ تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپی عدالت برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ کرد باغی رہنما عبداللہ اوجلان پر ترکی کی جانب سے چلائے جانے والا مقدمہ غیر منصفانہ تھا۔ ترکی نے اس فیصلے پر رد عمل میں کہا ہے کہ وہ مقدمے کی کارروائی میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی کوش کرے گا جس سے اشارہ ملتا ہے کہ شائد اس مقدمے کی سماعت دوبارہ سے کی جائے۔ مسٹر اوجلان کو 1999 میں ملک سے غداری کا قصوروار ٹہرایا گیا تھا۔ان پر کرد تنظیم پی کے کے اور ترک فوج کے درمیان پندرہ سالہ جنگ کے نتیجے میں تیس ہزار افراد کی ہلاکت کا الزام ہے۔ اوچلان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت سے ترکی میں کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ترکی یوروپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کی کوششوں میں ہے۔ یورپی عدالت کا کہنا ہے کہ مسٹر اوجلان پر مقدمے کی سماعت کرنے والا ٹریبونل آزاد اور غیر جانبدار نہیں تھا اور اس میں ایک فوجی جج کی موجودگی یہ ثابت کرتی ہے کہ عدالت کا فیصلہ منصفانہ نہیں تھا۔ مسٹر اوجلان کے وکیل کا کہنا ہےکہ وہ اس فیصلے سے بہت مطمیئن ہیں۔ ترکی نے 2002 میں موت کی سزا کو ختم کردیا تھا تاکہ وہ یورپی یونین کا رکن بن سکے۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کو اوجلان کے مسلے پر پرامن رہنا چاہئیے اور اس معاملے کو نبٹنے کے لئے ترک حکومت کی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہئیے۔ مسٹر اوجلان اس وقت عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اچلان کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کرد اور ترک قوم پرستوں دونوں ہی میں پر تشدد کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ ترک انٹیلی جنس کے ہاتھوں اچلان کی گرفتاری اور اس کے بعد انہیں سزا سنائے جانے پر پورے ترکی میں جشن منایا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||