یروشلم میں جھڑپ، متعدد زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یروشلم میں سینکڑوں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس میں تصادم کے دوران گیارہ مظاہرین اور سات پولیس والے زخمی ہوگئے۔ یہ تصادم اسوقت ہوا جب فلسطینی دائیں بازو کے ایک شدت پسند اسرائیلی گروپ ریواوا کے حامیوں کو روکنے کے لئے جمع ہوئے۔ اس موقع پر حکام نے پینتالیس برس سے کم عمر کے فلسطینی مسلمانوں پر مسجدِ اقصی کے احاطے میں جمع ہونے پر پابندی عائد کردی۔ اسرائیلی شدت پسند گروہ یہیدی کیلنڈر کے پہلے مہینے ایار کے آغاز پر حرم شریف کے احاطے میں گھسنا چاہ رھا تھا تاکہ غزہ سے اسرائیل کے یکطرفہ فوجی انخلا پر احتجاج کیا جا سکے۔ اس موقع پر کوئی پانچ ہزار مسلمان یہودی گروہ کی مزاحمت کے لئے حرم شریف کے قریب جمع ہو گئے اور انکا پولیس سے تصادم ہوا جو دونوں طرف کے لوگوں کو دست و گریباں ہونے سے روکنے کے لئے تعینات کی گئی تھی۔مظاہرین نے پتھراؤ کیا اور پولیس نے سٹین گرینیڈ استعمال کئے اور لاٹھی چارج کیا۔ یروشلم کے مفتی عکرمہ صابری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس کو کوئی حق نہیں کہ وہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصی میں عبادت کرنے سے روکے۔ اس موقع پر کئی جوشیلے مظاہرین نے کہا کہ وہ اپنی جان پر کھیل کر بھی یہودیوں کو مسجد میں ممکنہ داخلے سے روکیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||