شام: عراق سے رابطہ بحال کرنے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام نے تقریباً وہ دو عشروں سے زائد عرصے کے بعد عراق سے تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ شام کے وزیر خارجہ فاروق الشارع نے ترکی میں منعقدہ اجلاس کے دوران خطے کے دیگر وزراء خارجہ کو بتایا کہ عراق سے تعلقات جلد از جلد استوار کر لیے جائیں گے۔ شام کے تعلقات عراق سے اس وقت ختم ہو گئے تھے جب اس نے انیس سو بیاسی میں ایران عراق جنگ کے دوران ایران کا ساتھ دیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شام پر الزام رہا ہے کہ وہ عراق میں بدامنی کو ہوا دیتا رہا ہے اس لیے نئی پیش رفت کے حوالے اب دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی کا معاملہ اولین ترجیح کا حامل ہو گا۔ بیشتر عرب ریاستوں نے گزشتہ برس ستمبر میں عراق سے تعلقات بحال کر لیے تھے۔ استنبول میں ہونے والے اجلاس میں ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے عراق میں سکیورٹی کے حوالے سے سخت تنبیہ کی تھی۔ اجلاس میں موجود دیگر وزراء خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ سرحدوں پر سکیورٹی کو بڑھانے میں تعاون کریں گے تاکہ ان کے بقول دہشت گردی کے لیے ہونے والی دراندازی کو ختم کیا جا سکے۔ بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ ہیملٹن کا کہنا ہے کہ اس وقت دمشق پر خاصا دباؤ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی دباؤ کے نتیجے میں ہی شامی فوج نے گزشتہ ہفتے لبنان کا علاقہ خالی کیا ہے اور اب یوں دکھائی دیتا ہے کہ عراق کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لیے شام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||