اسرائیل وضاحت پیش کرے: امریکہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل غرب اردن میں گھروں کی تعمیر کے اس نئے منصوبے کی وضاحت کرے جس کا اعلان واشنگٹن کی طرف سے یہودی آبادیوں کی عدم توسیع کی بات کے چند روز بعد کیا گیا تھا۔ اسرائیل نے پیر کو کہا تھا کہ غرب اردن کے شمالی شہر ایلکانہ میں پچاس نئے گھروں کی تعمیر جلد شروع ہو جائے گی۔ اس اعلان کے چند روز پہلے ہی صدر جارج بش نے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اس طرح کے تعمیراتی کام روک دیں۔ ایریل شیرون نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اگست کے وسط میں اسرائیلی انخلاء تک نئے گھروں کی تعمیر ملتوی کرنے کے حق میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے ایریل شیرون یہ نہیں چاہتے کہ تعمیراتی منصوبے پر کام ایسے وقت میں ہو جب یہودی مقدس مقامات (ببلیکل ٹمپلز) کی تباہی کا سوگ مناتے ہیں۔ اس ضمن میں ایریل شیرون ملکی کابینہ کے وزراء سے ملاقات کر رہے ہیں جس کے دوران غزہ کی پٹی سے یہودی مذہبی وجوہات کی بنا پر اسرائیلی انخلاء کو ملتوی کرنے پر غور کیا جائے گا۔ آٹھ ہزار اسرائیلی آباد کاروں کا انخلاء بیس جولائی کو شروع ہونا تھا لیکن ایریل شیرون اسے سولہ اگست یعنی تین ہفتے تک ملتوی کرنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی برادری مشرقی یروشلم سمیت غزہ اور غربِ اردن میں قائم یہودی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت غیرقانونی تصور کرتی ہے لیکن اسرائیل اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان سکاٹ مکلیلن نے کہا ہے کہ امریکہ ایلکانہ میں نئے گھروں کی تعمیر کے معاملے پر ’اسرائیلی حکومت سے وضاحت چاہے گا‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||