افغان کابینہ کی حلف برداری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی کی نئی کابینہ نے جس میں انہوں نے کئی جنگجو سرداروں کی جگہ ٹیکنوکریٹ کو شامل کیا گیا ہے، حلف اٹھا لیا ہے۔ افغان صدر حامد کرزئی نےاس امید کا اظہار کیا ہے کہ کابینہ افغان قبائلی اور گروہی مفادات سے بالا تر ہو کر افغان لوگوں کی فلاح کے لیے کام کرئے گی۔ حامد کرزئی نے ستائیس میں سے پچیس وزیروں کا قرآن پر حلف لیا۔ دو وزیر بعد میں حلف لیں گے۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان کی نئی کابینہ کی تشکیل سے عالمی مالیاتی ادارے خوش ہوں گے کیونکہ بیرون ملک سے تعلیم یافتہ لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے لیکن اس تشکیل سے بعض لوگ ناراض بھی ہوں ۔
ناراض لوگوں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کے خلاف لڑنے والوں کو نذر انداز کر کے بیرون ملک میں بیٹھے لوگوں کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ حامد کرزئی نے وزیر دفاع محمد فیہم اور وزیر تعلیم یونس قانونی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن ہرات کے طاقتور جنگجو اسماعیل خان کو اپنی کابینہ میں شامل کیا ہے۔کابیینہ میں تین خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ حلف برداری کی تقریب صدارتی محل میں منعقد ہوئی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||