بغداد کار بم دھماکے میں 47 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی وزارت صحت کے حکام نے کہا ہے کہ وسطی بغداد میں واقع ایک پولیس سٹیشن کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کے نتیجے میں سینتالیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دھماکے کی وجہ سے سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور ہیفہ سٹری, پر واقع ایک شاپنگ سینٹر تباہ ہو گیا ہے۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ کار میں نصب بم پھٹنے سے سڑک میں گڑھا پڑ گیا اور لاشوں کے ٹکڑے دور دور بکھر گئے۔ دریں اثناء پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلح افراد نے بغداد کے شمال میں بارہ پولیس اہلکاروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ مسلح افراد کی جانب سے منی بس پر سوار پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرنے کے نتیجے میں ایک عام شہری ہلاک اور دو زخمی ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بغداد کے شمال میں واقع شہر بائیجی سے گزرنے والی تیل کی ایک پائپ لائن دھماکے کی زد میں آ گئی۔ آگ بجھانے والا عملہ آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ عراق میں بجلی کے عبوری وزیر نے کہا ہے کہ بائیجی میں پیش آنے والے واقعہ کے باعث ملک بھر میں بجلی کا نظام متاثر ہوا ہے۔ دوسری جانب ترکی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکی فوج تلعفر پر کارروائی بند نہں کرتی تو وہ امریکہ سے تعاون بند کر دے گا۔ عراق کے شہر تلعفر میں زیادہ آبادی ترکوں کی ہے۔ منگل کو ہونے والا دھماکہ جولائی کے بعد سے اب تک پیش آنے والا شدید ترین واقعہ ہے۔ جولائی میں باقوبہ کے پولیس سٹیشن کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں اڑسٹھ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو ہیفہ سٹریٹ میں امریکی فوج کے ساتھ ایک مسلح لڑائی میں ہلاک ہونے والے لوگوں میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس واقعہ میں کم از کم ایک سو چودہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||