مائیکل مور کا ایک ’دھماکہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں بش مخالف فلم فارن ہائٹ نائیں الیون کے ڈائریکٹر مائیکل مور نے کانگرس کے رکن اور امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے نئے سربراہ پورٹر گوس کے لیے ان ہی کا ایک انٹرویو جاری کر کے مشکل صورت حال پیدا کر دی ہے۔ مائیکل مور نے حال ہی میں گوس کے ایک انٹرویو کی ٹیپ اور مسودہ جاری کیا ہے جس میں گوس نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ سی آئی اے کا سربراہ بننے کی قابلیت نہیں رکھتے۔ تاہم وائٹ ہاوس نے اس انٹرویو کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ اس انٹرویو کو صدر بش کی عراق پر حملے کے خلاف بنائی جانے والی فلم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ مگر بش انتظامیہ کے گوس کو سی آئی اے کا سربراہ مقرر کرنے کے بعد مائیکل مور نے اس انٹرویو کی ویڈیو اور مسودے کو اپنی ویب سائٹ کے ذریعے جاری کر دیا ہے۔ گوس نے اس انٹرویو میں اعتراف کیا کہ انہیں مطلوبہ زبانیں بھی نہیں آتیں اور اس عہدے کے لیے ایک عربی دان کی ضرورت ہے۔ ’میں یقیناً تکنیکی طور پر بھی اس عہدے کے قابل نہیں ہوں۔ میرے بچے مجھے روز کہتے ہیں کہ ڈیڈ آپ کو کمپیوٹر سیکھنا چاہیے۔‘ ’لہذا جن چیزوں کی ضرورت ہے ان کو میں پورا نہیں کرتا۔‘ پینسٹھ سالہ گوس فوج کے خفیہ محکمے اور سی آئی اے میں کام کر چکے ہیں۔ کانگرس میں وہ ریاست فلوریڈا کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں سے وہ انیس سو اناسی میں منتخب ہوئے تھے۔ صدر بش نے ان کو سی آئی اے کا سربراہ مقرر کرتے وقت اعلان کیا تھا کہ وہ اس عہدے کے لیے سب سے مناسب آدمی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوس کے پاس انٹیلی جنس اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کا وسیع تجربہ ہے۔ گوس کو جارج ٹینٹ کی جگہ سی آئی اے کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ جارج ٹینٹ نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے ذاتی وجوہات کی وجہ بنا پر اس اہم ترین عہدے سے استعفی دینے کا اعلان کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||