صدام حسین :فرد جرم آج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق عراقی صدر صدام حسین اپنی سابق حکومت کے گیارہ دیگر سینئر افسران کے ساتھ آج عدالت میں پیش ہوں گے جہاں ان کے خلاف فردِ جرم عائد کی جائے گی۔ صدام حسین کو عراق کی قانونی تحویل میں دینے کے بعد کل بغداد میں جج کے سامنے پیش کیاگیا خصوصی ٹرائبیونل کے سربراہ سالم چلابی کا کہنا تھا کہ صدام حسین بظاہر پریشان نظر آرہے تھے۔ صدام حسین کے خلاف درج کیے گئے بارہ مقدمات میں جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم شامل ہیں۔ اگر ان پر یہ الزامات ثابت ہوئے تو انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ: ’آج 1015 منٹ پر (0615 جی ایم ٹی) صدام کو قانونی طور پر عراق کے حوالے کر دیا گیا ہے‘۔ دوسرے گیارہ افراد میں عراق کے نائب وزیرِ اعظم طارق عزیز بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ منگل کو عراق کے وزیر اعظم ایاد علاوی نے کہا تھا کہ صدام حسین ً بدھ کو قانوناً نئی حکومت کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صدام حسین اور ان کی حکومت سے تعلق رکھنے والے زیر حراست گیارہ ارکان جسمانی طور پر امریکی فوج کی ہی تحویل میں رہیں گے۔ عراق کے نئے وزیر اعظم نے کہا کہ سابق صدر کے مقدمے کی منصفانہ سماعت ہو گی اور ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوگا جو ان کے دور میں عراقی عوام کے ساتھ روا رہا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||