BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 June, 2004, 03:07 GMT 08:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صدام نئی حکومت کے حوالے ہوں گے‘
امریکی فوجی
صدام حسین کو عراق پر امریکی قبضہ کے آٹھ ماہ بعد گرفتار کیا گیا تھا
عراقی وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی صدام حسین سمیت تمام قیدیوں کو عراق کی عبوری حکومت کے حوالے کر دیں گے۔

عراقی وزیر اعظم نے عربی ٹی وی الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا کہ اقتدار کی منتقلی اگلے دو ہفتوں میں ہوگی اور صدام اور دوسرے قیدیوں کو عراقی حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

قبل ازیں ریڈ کراس نے کہا تھا کہ 30 جون کو ہونے والی اقتدار کی منتقلی سے پہلے عراقی قیدیوں کو یا تو رہا کردیا جانا چاہئے یا پھر ان کے خلاف فرد جرم عائد کی جائے۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ تقریباً 5000 قیدی امریکی اتحاد کے لئے خطرہ تصور کئے جاتے ہیں اور وہ اس کی حراست میں رہیں گے امریکہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا ان میں صدام حسین بھی شامل ہیں۔

بغداد میں ریڈ کراس کے کارکن نادیہ دومانی نے کہا ہے سابق عراقی رہنما ایک جنگی قیدی ہیں اور لڑائی ختم ہونے کے بعد امریکی افواج انہیں قید نہیں رکھ سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا کیس بھی دوسرے جنگی قیدیوں کی طرح ہے ۔

صدام حسین اور دوسرے اہم قیدیوں پر مقدمہ چلانے کے لئے عراقی ٹرائبیونل کی تشکیل کی جا رہی ہے۔حالانکہ ان کے خلاف ابھی تک باقاعدہ الزامات نہیں لگائے گئے۔

برطانیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ ٹرائبینل غالباًاس سال کے اواخر سے اس مقدمے کی سماعت شروع کر دے گا۔ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 30 جون کو رہا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان قیدیوں کو نئی انتظامیہ فوراً گرفتار نہیں کر سکتی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد