صدام پر مقدمے کا ٹریبیونل قائم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے عبوری رہنماؤں نے ایک ٹریبیونل قائم کیا ہے جس میں سابق عراقی صدر صدام حسین اور ان کے ساتھیوں پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ امریکہ نواز عراقی نیشنل کانگریس کے ترجمان نےاس نئے ٹربیونل کی تفصیلات بتائی ہیں۔ صدام حسین کو دسمبر میں امریکی فوجوں نے تکریت کے علاقے میں پکڑا تھا- ان کو ایک ایسی جگہ قید رکھا گیا ہے جس کا امریکیوں نے کوئی اتہ پتہ نہیں دیا ہے- پچھلے دنوں ایک برطانوی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ صدام حسین کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی فوجی اڈہ میں منتقل کر دیا گیا ہے- ابھی تک صدام حسین کے خلاف مقدمہ کی کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ۔لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سمت تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے- ترجمان قمبر نے بتایا ہے کہ عراقی حکمران کونسل نے صدام حسین کے خلاف مقدمے کے لئے سات ججوں پر مشتمل ایک ٹریبونل قائم کیا ہے جس کے سربراہ عراقی نیشنل کانگریس کے سربراہ کے بھتیجے سالم چلابی مقرر کئے گئے ہیں- ٹریبیونل کے لئے ایک سال کے اخراجات کے سلسلہ میں سات کڑور پچاس لاکھ ڈالر کی رقم مخصوص کی گئی ہے- صدام حسین کے خاندان کے افراد نے ایک ممتاز فرانسیسی قانون دان ژاک ورغیس کو معزول عراقی سربراہ کا مقدمہ لڑنے کے لئے مقرر کیا ہے- انہوں نے کہا ہے کہ وہ ان امریکی حکام کو شہادت دینے کے لئے طلب کریں گے جنہوں نے سن اسی کے عشرے میں صدام حسین کی حمایت کی تھی- صدام حسین سے، جنہیں تیرہ دسمبر کو تکریت میں ایک تہہ خانہ سے پکڑا گیا تھا، امریکی حکام پوچھ گچھ کر رہے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ معزول عراقی رہنما قطعی تعاون نہیں کر رہے ہیں- گزشتہ مارچ میں پچاس افراد پر مشتمل امریکہ کے محکمہ انصاف کی ایک جماعت عراق گئی ہے جو وہ شہادت جمع کر رہی ہے جو صدام حسین کے خلاف مقدمہ میں پیش کی جائے گی- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||