آنجہانی ریگن سپردِ خاک کر دیے گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آنجہانی سابق صدر رونلڈ ریگن کو ان کی وصیت کے مطابق ریاست کیلیفورنیا میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ ان کے جسدِ خاکی کو واشنگٹن میں سرکاری رسومات کے بعد نجی تدفینی رسومات اور تدفین کے لیے واپس کیلیفورنیا لایا گیا تھا۔ جہاں انہیں لاس اینجلس کی صدارتی لائبریری کے میدان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ پہاڑی کی چوٹی پر ان کے جسم کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اس وقت قبر میں اتارا گیا جو سورج غروب ہو رہا تھا، تدفین کی آخری فوجی رسم کے طور پر اکیس توپوں کا سلامی دی گئی۔ اس آخری نجی تقریب میں ان کی اہلیہ نینسی ریگن، ان کے بچے اور اہلِ حانہ کے علاوہ دوست اور اخباب شریک ہوئے۔ اس سے پہلے واشنگٹن میں آخری سرکاری رسومات کے بعد ان کے جنازے کی ایک قافلے کی صورت میں کیلیفورنیا لایا گیا۔ قبل ازیں واشنگٹن کے نیشنل کتھیڈرل میں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ مارگریٹ تھیچر نے رونلڈ ریگن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ صدر ریگن نے سرد جنگ کے فاتح تھے اور انہوں نے یہ جنگ کوئی گولی چلائے بغیر جیتی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’انہوں نے مخالفوں کو ان کے قعلوں سے باہر نکالا اور انہیں اپنے دوستوں میں تبدیل کر لیا۔ ہم ایک عظیم صدر، ایک عظینم امریکی اور ایک عظیم انسان سے محروم ہو گئے ہیں اور نے ایک ذاتی دوست کھو دیا ہے۔‘ ان کی آخری سرکاری رسومات میں میخائل گورباچوف، اور چار سابق امریکی صدر شریک ہوئے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||