BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 June, 2004, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریگن، سردجنگ اور جنرل ضیاء
سرد جنگ کے دوران رونالڈ ریگن کا کردار اہم رہا
سرد جنگ کے دوران رونالڈ ریگن کا کردار اہم رہا
رونالڈ ریگن ترانوے سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ وہ ایک صحافی، اداکار اور سیاست دان تھے۔ وہ انیس سو اکیاسی سے انیس سو نواسی تک امریکہ کے صدر رہے۔ انہیں سوویت یونین کی کمیونسٹ طاقت کے بین الاقوامی نظریاتی عزائم کے خلاف لڑی جانیوالی سرد جنگ کے دوران مغربی دنیا کی قیادت کا سہرا حاصل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان کی مدد سے افغانستان میں لڑی جانیوالی روسی افواج کے خلاف سردجنگ زوروں پر تھی۔ اس عشرے میں ریگن کے لئے پاکستان کے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے اہم کردار ادا کیا۔

ریگن کا دورِ حکومت پاکستان پر کیسے اثر انداز رہا؟ کیا آپ کو سرد جنگ کے دوران ریگن اور ضیاء کی قیادت کے بارے میں کچھ یاد ہے؟ ہمیں لکھئے۔ یہ بھی لکھئے کہ آپ کے خیال میں جنرل ضیاء اور ریگن کا کردار کیا تھا اور اس کے کیا اثرات آج کی دنیا پر مرتب ہورہے ہیں؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں

اعظم خان، سوات: میرے خیال میں ضیاء الحق نے اپنی وجوہات کی وجہ سے یہ لڑائی لڑی لیکن امریکہ کا مفاد تھا۔ ہمیں سرد جنگ سے کم فائدہ ہوا۔

نظریات کی جنگ؟
 ریگن اور ضیاء کے بیچ میں یہی قدر مشترک تھی کہ ریگن ایک مخصوص طبقے کے مفادات کو نظریے کی آڑ میں آگے بڑھا رہے تھے اور ضیا اپنے ذاتی اقتدار کو اسی آڑ میں طول دے رہے تھے۔
عثمان قاضی، اسلام آباد

عثمان قاضی،اسلام آباد: ریگن اور ضیاء کے بیچ میں یہی قدر مشترک تھی کہ ریگن ایک مخصوص طبقے کے مفادات کو نظریے کی آڑ میں آگے بڑھا رہے تھے اور ضیا اپنے ذاتی اقتدار کو اسی آڑ میں طول دے رہے تھے۔

ہارون الرشید ملک، اسلام اباد: ریگن صاحب نے ضیاء صاحب کے ساتھ مل کر سوویت یونین کو تو ٹرکی کیا لیکن اس کے بعد امریکیوں نے صرف اپنی عزاداری بنا لی بلکہ مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کردی۔

یحیٰ کرد، کوئٹہ: میرے خیال میں ضیاء کا دور اہل بلوچستان کے لئے منحوس تھا۔ اس دور میں لاکھوں افغان مہاجرین یہاں آئے اور اب وہ امیر اور ہم غریب بن گئے ہیں۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی: ایک وقت تھا جب دنیا میں دو بڑی طاقتوں کی حکمرانی تھی اور لگتا تھا دنیا دو حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے۔ پھر طاقت کا توازن بگڑا اور ایک حصہ کم ہوگیا۔ اس حصے کے خاتمے میں ریگن اور ضیاء الحق صاحب کا ہی ہاتھ تھا

ندیم فاروقی، لاہور: ریگن اور ضیاء الحق نے سوویت یونین کی تحلیل میں اہم کردار ادا کیا جس کے باعث دنیا سے سرد جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔ تاہم اس کے خاتمے سے جو امید تھی کہ اب دنیا کے مسائل حل ہونگے، وہ ہوا نہیں اور امریکہ نے اس کا غلط استعمال کیا۔

ناصر خان، کراچی: ضیاء کا دور پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دوروں میں سے تھا اور ریگن نے اس کی پرورش میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

سعید کھٹک، نوشہرہ: یہ واضح ہے کہ ضیاء پاکستانی فوجی کی تاریخ میں ایک بہادر جنرل تھے۔ وہ امریکہ کے اثر میں نہیں تھے۔ وہ اپنی قوم کے لئے لڑے تاکہ اسے کمیونسٹ نظریے سے الگ رکھا جاسکے، اور انہوں نے اسلامی نظریے کو زندہ و جاوید رکھا۔ دوسری جانب ریگن سوویت یونین کی شکست کے لئے لڑتے رہے۔

ریگن نے مذاکرات جاری رکھا
ریگن کے دورِ صدارت میں بہت زیادہ امداد ملی جس میں خاص طور پر اسلحہ شامل ہے۔ ریگن کا زمانہ اس لحاظ سے سنہرا کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی دانش مندی کے ساتھ روس کے ساتھ کمال کامیابی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھا۔
اکرم رامے، ٹورانٹو

اکرم رامے، ٹورانٹو: مجھے اچھی طرح سے ریگن کا سیکنڈ ٹرم کا وقت یاد ہے جب افغانستان میں روسی کے ساتھ جنگ زوروں پر تھی۔ اور امریکہ اور روس کے بیچ سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ ریگن کے دورِ صدارت میں بہت زیادہ امداد ملی جس میں خاص طور پر اسلحہ شامل ہے۔ ریگن کا زمانہ اس لحاظ سے سنہرا کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی دانش مندی کے ساتھ روس کے ساتھ کمال کامیابی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھا۔

واجد علی خان، ٹورانٹو: گرچہ ریگن اپنے ملک میں انتخاب جیت کر اقتدار میں آئے تھے، تاہم وہ ڈِکٹیٹروں کی حمایت کرتے تھے۔ اس وقت ریگن اور ڈِکٹیٹر ضیاء اور اب بش اور ڈِکٹیٹر مشرف۔۔۔

حاجی محمد شریف، ملکانی شریف، سندھ: صدر ریگن نے افغانوں کو اپنے مفاد کے لئے ہی صحیح لیکن مدد کرکے ان کو روس سے بچایا۔ صدر ضیاء کی بھی انہوں نے مدد کی تھی۔ میرے خیال میں انہوں نے کم از کم روس کو شکست دینے میں مدد کرکے ایک اچھا کام کیا تھا۔ ویسے بھی اب وہ مرگئے ہیں ان کے خلاف بولنا اخلاقی طور پر ٹھیک نہیں ہے۔

راحت ملک، راولپنڈی: ضیاء صاحب کا اور ریگن کا کردار دو الگ راستے تھے مگر منزل ایک تھی جس پر آکر دونوں اکٹھے ہوئے۔ ہماری مجبوری: امریکہ کی وجہ سے پاکستان کے نقشے کو روس کا ریڈ مارک کرنا۔۔۔۔

فیاض خان، اٹک: مجھے وہ دن یاد ہیں، ریگن کے اقدامات پاکستان کے لئے اچھے تھے کیوں کہ ریگن سے قبل جِمی کارٹر کے دور میں بھٹو کی حکومت کے دوران ہمارے تعلقات امریکہ کے ساتھ اچھے نہیں تھے۔ ایک بار جنرل ضیاء نے امریکی امداد سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا تھا کہ یہ مونگھ پھلی کے دانے۔۔۔۔ لیکن بعد میں حالات بدل گئے: امریکی مداد، رقم اور اسٹِنگر میزائلوں نے سوویت یونین کو روس سے نکالنے میں مدد کی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد