BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 June, 2004, 00:35 GMT 05:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریگن کی شخصیت پر ایک نظر
ریگن
ریگن نے پچاس سے زیادہ فلموں میں کام کیا
سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن امریکہ کے چالیسویں صدر تھے۔ انہوں نے سن اسی میں انہتر برس کی عمر میں صدارت سنبھالی تھی اور وہ امریکہ کے سب سے طویل العمر صدر تھے۔ اپنے آٹھ سالہ صدارتی دور میں انہوں نے کئی حوالوں سے اپنا نام تاریخ میں رقم کیا۔

ریگن نے اپنے کیریئر کا آغاز شوبز سے کیا۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی پچاس سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ زیادہ تر فلموں میں انہوں نے ہیرو کا کردار ادا کیا لیکن یہ چوٹی کے اداکاروں میں شمار نہیں کیے گئے۔

رونلڈ ریگن سن انیس سو گیارہ میں ایلی نوائے میں جوتوں کے ایک عادی شرابی سیلزمین کے ہاں پیدا ہوئے۔ چھبیس سال کی عمر میں انہیں وارنر برادرز کی فلموں میں کام کرنے کا کنٹریکٹ ملا۔

سن انیس سو چھیاسٹھ میں انہوں نے کیلیفورنیا کے گورنر کا انتخاب لڑا۔ ان کے بہت سے ساتھیوں نے ان کے اس اقدام کا مذاق اڑایا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک دوسرے درجے کا اداکار کیونکر سیاست میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ لیکن انہوں نے یہ انتخاب جیت کر سب کو حیرانگی میں ڈال دیا۔ ریگن آٹھ سال تک گورنر رہے۔

سن چھہتر میں انہوں نے صدارتی انتخاب کے لئے ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ البتہ چار سال بعد وہ نامزدگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے انتخابات میں ڈیموکریٹک صدر جمی کارٹر کو شکست دی۔ اس وقت ان کی عمر ستر سال سے چند مہینے کم تھی لیکن انہوں نے کہا کہ وہ بھرپور انداز سے اپنے فرائض انجام دیں گے۔ ’مجھے جن باتوں کا سامنا ہے اس سے میں خوف زدہ نہیں ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ امریکی عوام کو جن باتوں کا سامنا ہے وہ ان سے خوف زدہ ہیں‘۔

ریگن
برطانیہ کی دائیں بازو کی قدامت پسند وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر سے ان کے قریبی تعلقات تھے

لیکن ان کے صدر بننے کے دو مہینے بعد جو ہوا وہ واقعی خوفناک واقعہ تھا۔ ان پر قاتلانہ حملہ ہوا لیکن وہ بچ گئے۔

رونلڈ ریگن کی مقبولیت کا راز ان کا دل کو لبھانے والا بےتکلف انداز اور ان کی بزلہ سنجی تھی۔ وہ خود اپنا مذاق اڑانے سے کبھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے کہا ’یہ صحیح ہے کہ زیادہ محنت کرنے کوئی مرتا نہیں لیکن میں پھر بھی احتیاط برتتا ہوں‘۔

وہ عام طور پر انتظامیہ کے تفصیلی کاموں میں زیادہ حصہ نہیں لیتے تھے اور بعض اوقات تفصیلات بھی بھول جاتے تھے۔

ریگن جب صدر بنے تو انہیں خارجہ امور کا زیادہ علم نہیں تھا اور نہ ہی انہیں اس سے زیادہ دلچسپی تھی۔ وہ سویت یونین کے سخت خلاف تھے اور وہ اسے شیطانی سلطنت قرار دیتے تھے تاہم بعد میں سویت رہنما گورباچوف سے ان کی ایسی مفاہمت ہوئی کہ جس سے جوہری اسلحہ کی تخفیف کا تاریخ ساز سلسلہ شروع ہوا۔

اپنے صدارتی دور میں رونلڈ ریگن کا پاکستان کے صدر ضیاء الحق کے ساتھ نہایت قریبی تعلق رہا ہے خاص طور پر افغانستان میں سویت فوجوں کے خلاف مجاہدین کی جنگ کے سلسلہ میں۔ اس جنگ کے لئے ریگن نے پاکستان کے توسط سے مجاہدین کو بھاری مالی اور فوجی امداد دی تھی۔ سن بیاسی میں رانلڈ ریگن نے صدر ضیاء کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکہ ایک ہی منزل کی جانب رواں ہیں۔ ان کا اشارہ افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جنگ کی طرف تھا-

گو سن چوراسی میں رانلڈ ریگن نے پاکستان کو کھلم کھلا دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے جوہری اسلحہ کے لیے یورینیم کو افزودہ کیا تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے لیکن بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے افغانستان میں پاکستان کی مدد کے عیوض اس معاملہ پر عمدًا آنکھیں موندھ لی تھیں۔

اگرچہ ریگن مقبول ترین امریکی صدر مانے جاتے ہیں لیکن ان کے زمانے میں امریکہ میں امیروں اور غریبوں کے درمیان خلیج بہت بڑھی۔ ان کا شمار انتہائی دائیں بازو کے قدامت پسند رہنماؤوں میں ہوتا ہے اور اسی مناسبت سے برطانیہ کی دائیں بازو کی قدامت پسند وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر سے ان کے قریبی تعلقات تھے-

سن نواسی میں صدارت سے سبکدوش ہونے کے بعد وہ کیلیفورنیا منتقل ہو گئے۔ الزائمر کے مرض میں مبتلا ہونے سے پہلے وہ آپ بیتی لکھ رہے تھے۔

ریگن امریکہ کے چالیسویں صدر تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد