سابق امریکی صدر ریگن انتقال کرگئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر ترانوے برس تھی۔ انہیں 1994 سے الزائمرز کا مرض لاحق تھا جس کے باعث ریگن کو گزشتہ کئی برس سے پبلک میں نہیں دیکھا گیا۔ سابق صدر ریگن کا انتقال لاس اینجلس میں ان کے گھر میں ہوا جہاں ان کے خاندان کے تمام افراد موجود تھے۔ وہ انیں سو اکیاسی سے انیس سو نواسی تک امریکہ کے صدر رہے جس دور میں سرد جنگ عروج پر رہی اور سابق سویت ریاست کے خاتمے کا آغاز ہوا۔ وہ اب تک امریکہ کے صدور میں سے وہ سب سے طویل عمر پانے والے صدر ہیں۔
ان کی وفات پر پوری دنیا سے تعزیتی پیغامات آرہے ہیں اور ان کے دور صدارت میں سابق سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف نے انہیں ایک عظیم صدر قرار دیا ہے۔ گزشتہ ماہ ان کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ ریگن کی طبیعت بہت بگڑتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا ’ریگن اپنے طویل سفر سے ایسی جگہ ہیں جہاں میں ان تک نہیں پہنچ سکتی۔‘ انیس سو چورانوے کے بعد سے وہ لاس اینجلس میں اپنے گھر میں محدود ہوگئے تھے جہاں ان کے قریبی رشتہ دار ان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ صدر بش کو پیرس میں رونالڈ ریگن کے انتقال کی اطلاع دی گئی اس وقت وہ فرانسیسی صدر ژاک شیراک کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ صدر بش نے اپنے پہلے رد عمل میں کہا کہ یہ امریکہ کے لیے ایک غمگین دن ہے۔ انہوں نے کہا ’ریگن نے اپنی عظمت سے امریکہ میں قابل احترام مقام بنایا‘۔ رونالڈ ریگن کی میت کو کیلیفورنیا میں صدارتی لائبریری اور میوزیم لے جایا جائے گا جس کے بعد باقاعدہ آخری رسومات کے لیے انہیں واشنگٹن لے جایا جائے گا۔ آخری رسومات کے بعد ان کی میت کو کیلیفورنیا واپس لے جاکر دفنادیا جائے گا۔ سابق برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے، جوکہ ریگن کے دور صدارت میں ہی برطانوی وزیر اعظم رہی ہیں، کہا ہے کہ ریگن ان کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ناصرف امریکی عوام یاد رکھیں گے بلکہ وہ سب جو آج ریگن کی پالیسیوں کی وجہ سے آزاد معاشرے میں سانس لے رہے ہیں۔ دریں اثناء بکنگھم پیلیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ جب ملکہ برطانیہ الزبیتھ کو رونالڈ ریگن کے انتقال کے بارے میں مطلع کیا گی تو وہ بہت اداس ہوگئیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||