سابق صدر ریگن کی آخری رسومات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن کے نیشنل کتھیڈرل میں امریکہ کے سابق آنجہانی صدر رونلڈ ریگن کی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔ ان کی آخری رسومات میں امریکہ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی جن میں برطانیہ کی سابق وزیرِ اعظم مارگریٹ تھیچر بھی شامل ہیں۔
مارگریٹ تھیچر نے رونلڈ ریگن کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم ایک عظیم صدر سے محروم ہو گئے ہیں‘۔ صدر بش نے کہا کہ ریگن امریکہ کے لیے استقامت کی ایک مثال تھے۔ کیتھیڈرل میں آخری رسومات کے بعد آنجہانی صدر کا جسدِ خاکی کیلیفورنیا لے جایا جائے گا جہاں
انہیں دفن کر دیا جائے گا۔ واشنگٹن میں کسی ممکنہ دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیشِ نظر سیکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں ہیں اور کتھیڈرل کے اردگرد اور فضا میں آمدورفت پر کڑی سختی کر دی گئی ہے۔ آخری رسومات میں چار صابق امریکی صدور جارج بش سینیئر، بل کلنٹن، جمی کارٹر اور جیرالڈ فورڈ شرکت کر رہے ہیں۔
ان کے علاوں عالمی رہنماؤں میں میخائل گورباچوف، برطانیہ کے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر، جرمنی کے رہنما چانسلر گیرہارڈ شیرؤڈر، جنوبی افریقہ کے صدر تھابو مبیکی، اور افغانستان کے صدر حامد کرزئی شامل ہیں۔ واشنگٹن میں ہونے والی آخری رسومات پورے فوجی اعزاز سے ادا کی جا رہی ہیں جبکہ پوری دنیا میں امریکی اڈوں پر توپیں آنجہانی صدر کو خراجِ تحسین پیش کریں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||