’آسٹریلوی طالب‘ پر الزامات عائد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ محکمہ دفاع نے گوانتاناموبے میں قید جانے والے ایک آسٹریلوی باشندے پر تین الزامات عائد کیے ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع نے اٹھائیس سالہ ڈیوڈ ہکس پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے جنگی جرائم کی سازش ، اقدامِ قتل اور دشمن کی امداد کے ارتکاب کے جرائم کیے۔ طالبان کے حامی ڈیوڈ ہکس کو دو ہزار ایک میں افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اگرچہ ابھی مقدمہ چلانے کے بارے میں کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی تاہم گوانتاناموبے میں قید رکھے جانے والوں میں ڈیوڈ ہکس تیسرا قیدی ہے جس پر الزامات عائد کیے گئے ہیں اور جس پر امریکی ملٹری کمیشن میں مقدمہ چلایا جائے گا۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ڈیوڈ ہکس نے افغانستان میں قائم القاعدہ کے تربیتی کیمپوں کے کئی کورسوں میں شرکت کرنے کے لیے اپنا ملک چھوڑا اور دوہزار ایک کے حملوں کے بعد القاعدہ اور طالبان کے شانہ بہ شانہ لڑائی میں حصہ لینے کے لیے واپس آئے۔ پینٹاگون کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی وکیلِ استغاثہ عدالت سے سزائے موت دیئے جانے کی درخواست نہیں کریں گے۔ تاہم مسٹر ہکس کے لیے مقرر کیے جانے والے امریکی فوجی وکیل کا کہنا ہے کہ انہیں منصفانہ سماعت کی توقع نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||