عراق : اٹھارہ مزاحمت کار ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بغداد کے علاقے صدر شہر میں امریکی فوج اور مقتدی الصدر کے حامیوں میں سوموار کو جھڑپوں میں کم از کم اٹھارہ مزاحمت کار ہلا ک اور بارہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اسی دوران بغداد کے گرین زون میں بھی دھماکے ہوئے ہیں جن میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اتحادی فوج کے ترجمان مائک مرے نے چار افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری دفاتر کے علاقے میں ہونے والے دھماکوں سے سرکاری دفاتر کی عمارتیں لرز اٹھیں۔ صدر شہر میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت ہے۔ اس علاقے میں مقتدی الصدر کے حامی کافی تعداد میں موجود ہیں۔ اس سے پہلے اتوار کو کوفہ اور نجف میں امریکی فوج اور مقتدی الصدر کی مہدی آرمی میں جھڑپوں کے دوران چھالیس عراقی ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو کوفہ میں ایک مسجد پر ٹینکوں اور فضائیہ کی مدد سے یلغار کر کے مقتدی الصدر کے تیس وفاداروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ پیر کی صبح بغداد شہر میں ’گرین زون‘ میں ایک زوردار دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد جائے وقوعہ سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔ دھماکہ گرین زون میں امریکہ کی نامزد کردہ گورنگ کونسل کے دفاتر کے احاطے کےگیٹ کے قریب ہوا۔ موقعہ پر موجود فوجیوں نے بتایا کہ دھماکے کی وجہ سے ایک گاڑی ہوا میں اڑ گئی۔ فوجیوں نے کہا ہے کہ دھماکہ ایک کار بم کی وجہ سے ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||