کوفہ و نجف میں لڑائی: 46 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے دو شہروں کوفہ اور نجف میں اتحادی فوج اور شیعہ ملیشیا کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آئی ہے اور کم از کم چھیالس شیعہ شدت پسند مارے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے مطابق ہفتے کی رات کوفہ کی مسجد کے احاطے میں امریکی فوج سے جھڑپ کے دوران مقتدی الصدر کے بتیس وفادار ہلاک ہوئے۔ علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ کوفے میں ٹینکوں اور فوج کے آنے سے پہلے امریکی لڑاکا طیاروں اور توپ خانے سے زبردست گولہ باری ہوتی رہی۔ ادھر نجف سے بھی اسی طرح سخت گولہ باری کی خبریں ہیں۔ نجف شہر کے ایک ہسپتال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ حملے میں چودہ عراقی مارے گئے۔ ہفتے کو مقتدی الصدر کی ملیشیا نے پیشکش کی تھی کہ اگر امریکی فوج نجف اور کربلا سے واپس چلی جائے تو وہ واپس ہو جائیں گے۔ مقتدی الصدر کی مہدی آرمی کے بہت سے ارکان کربلا کے وسط سے چلے گئے ہیں جہاں وہ گزشتہ ماہ سے امریکی فوج سے جھڑپوں میں مصروف ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ شہر میں اب سکون ہے اور مہدی آرمی کے رکن اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ ادھر کوفہ کی مسجد میں جہاں شدید لڑائی ہوئی، ہر طرف خون ہی خون تھا اور ٹینکوں کے زمین کو روندنے کے نشانات تھے۔ امریکی فوج کے مطابق مسجد کے احاطے سے راکٹوں سے داغے جانے والے بارہ گولے اور مارٹر کے دو سو سے زیادہ راؤنڈ بھی مسجد سے ملے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق اتوار کی رات نصف شب کے بعد اس لڑائی میں امریکی ٹینکوں نے مسجد کے دروازوں کو کچل کر اپنا راستہ بنایا اور امریکی فوجی مسجد میں داخل ہوگئے۔ اس وقت آسمان پر امریکی ہیلی کاپٹر بھی پرواز کر رہے تھے۔ اکثر مقامی لوگوں میں اس بات پر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ مسجد کا تقدس پامال کیا گیا ہے۔ کوفے کی اس مسجد میں مقتدی الصدر عموماً جمعہ کی نماز کے لئے آتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||