عراق پر نئی قرار داد کا مسودہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں نئی حکومت کے قیام سے متعلق ایک نئی قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں سابق پاکستانی سفیر احمد کمال کے مطابق برطانیہ اور امریکہ نے نئی قرار داد کا مسودہ پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں پیش کیا۔ واشنگٹن اور لندن چاہتے ہیں کہ عراق کی اس نئی حکومت کو تسلیم کر لیا جائے جسے جون کی تیس تاریخ تک محدود خود مختاری دیئے جانے کا منصوبہ ہے۔ اس سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ قرار داد میں ممکنہ طور پر یہ بھی کہا جائے گا کہ عراق میں حکومت قائم ہونے کے بعد اتحادی فوج کے لئے اپنے دستے عراق میں رکھنے کو قانونی شکل مل جائے۔ دنوں ملک اس کوشش میں بھی ہیں کہ عراق میں نئی حکومت کے قیام کے بعد امریکی اور اتحادی ملکوں کے دیگر فوجیوں کو عراقی قانون سے مامونیت مل جائے تاکہ ان پر عراقی قانون کے تحت کوئی مقدمہ نہ چلایا جا سکے۔ دونوں ملک اس تجویز پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن نامہ نگار کہتے ہیں کہ یہ بات یقین سے نہیں کہی جا سکتی کہ امریکہ اور برطانیہ کو اس پر کتنی حمایت مل سکے گی۔ فوری طور پر حمایت حاصل نہ ہونے کا سبب حال ہی میں ابو غریب کی جیل میں عراقیوں کے ساتھ امریکی فوجیوں کی بدسلوکی کا سکینڈل ہے۔ ادھر پیر کی رات کو صدر جارج بش عراق کی صورتِ حال پر ایک تقریر کرنے والے ہیں جس میں وہ وہاں کی صورتِ حال کے بارے میں امریکی عوام کو آگاہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||