افغانستان‘ انتخابات ملتوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ستمبر تک ملتوی ہو گئے ہیں۔ ملک کے صدر حامد کرزئی نے اپنے اعلان میں انتخابات کے التوا کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ایک ہی وقت میں منعقد کئے جائیں گے۔ افغانستان میں سکیورٹی کے مسائل اور ووٹروں کی رجسٹریشن میں تاخیر کے باعث ہی انتخابات کے اصل اوقات کار کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ سن دو ہزار ایک میں طے شدہ اوقات کار کے مطابق افغانستان میں جون سن دو ہزار چار میں عام انتخابات منعقد کرائے جانے تھے۔ صدر حامد کرزئی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم ستمبر میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد کرانے کے لئے تیار ہیں‘۔ ووٹروں کی فہرستیں تیار کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیموں نے جنوری میں متنبہ کیا تھا کہ افغانستان میں سکیورٹی کے مسائل کے پیش نظر ملک کے بعض حصوں تک رسائی ممکن نہیں ہو پائی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں ایک کروڑ پانچ لاکھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں لیکن ان میں صرف پندرہ لاکھ ووٹر رجسٹرڈ ہیں۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں حالات خاص طور پر نازک بتائے جاتے ہیں۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں موجود بین الاقوامی امن فوج کو ملک بھر میں تعینات کرنے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||