| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’جرگے کا کام تسلی بخش‘
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ملک کے لئے نئے آئین کی منظوری کے لیے جاری لویا جرگہ کو سنیچر کو ایک ہفتہ مکمل ہوچکا ہے۔ جرگے کے منتظمین نے توقع ظاہر کی ہے کہ اتوار کو مجوزہ آئین کے مختلف پہلوؤں پر غور کے لئے قائم کی گئی دس کمیٹیاں اپنی سفارشات مکمل کرلیں گی۔ افغان صدر حامد کرزئی نے جرگے کے مندوبین کے کام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہفتے کا کام تسلی بخش انداز سے مکمل کر لیا گیا ہے۔’مجھے امید ہے کہ مندوبین اختتام سال سے پہلے اپنا کام مکمل کر لیں گے۔ لیکن اگر وہ نہیں کر پاتے تو میں انہیں پورا پورا موقع اور وقت دینے کو تیار ہوں۔‘ صدر کرزئی کابل کے مرکز میں انتہائی کڑی نگرانی والے گل خانہ محل میں صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ روایتی لباس میں ملبوث کرزئی نے کہا کہ اکثر کمیٹیوں نے اپنا کام تقریباً مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی ایک سو ساٹھ دفعات میں سے ساٹھ پر اتفاق ہو چکا ہے۔ جرگہ منتظمین نے ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ کمیٹیوں نے پارلیمان کے اختیارات پر غور کیا اور یہ سفارش کی کہ وزراء کی تعیناتی کی توثیق پارلیمان سے لی جانی چاہئیے۔ ایک منتظم میرویس یاسینی نے کمیٹیوں کی پیش رفت کے بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا شمالی اتحاد کی جماعت جعمیت اسلامی کے اراکین کمیٹیوں میں شریک نہیں ہو رہے ایک منتظم فاطمہ فاطمی نے کہا کہ کچھ لوگ ایسا کر رہے ہوں گے لیکن سب نہیں۔ کابل کے پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ میں ایک بڑے خیمہ میں منعقد اس جرگہ کے لئے حفاظتی اقدامات انتہائی سخت ہیں۔ سرکاری افغان ٹی وی نے سنیچر کو بھی پولیس کی جانب سے ایک راکٹ کو ناکارہ بنانے کی خبر دی۔ صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردوں کی جانب سے حملوں کی توقع کر رہے تھے لیکن جرگہ مخالف عناصر اب تک اس میں ناکام رہے ہیں۔ شہر میں داخلے کے تمام راستوں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور پاکستانیوں کا خصوصی اندراج کیا جاتا ہے۔ لویہ جرگہ کے ایک مندوب نے بی بی سی کو بتایا کہ دس میں سے سات کمیٹیاں صدراتی نظام کے حق میں ہیں جبکہ وہ تین کمیٹیاں جن کی سربراہی شمالی اتحاد کے اراکین کر رہے ہیں پارلیمانی نظام کے حق میں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||